رولز کی تشکیل تک 184/3 کے تمام مقدمات موخر: سپریم کورٹ

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’سپریم کورٹ رولز میں ترمیم تک از خود نوٹس کا اختیار استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

بدھ کو یہ تحریری فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جاری کیا (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

سپریم کورٹ نے حافظ قرآن کو میڈیکل ڈگری میں 20 اضافی نمبر دینے سے متعلق مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے رولز بنائے جانے تک 184/3 (ازخود نوٹس) کے تمام مقدمات موخر کرنے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’سپریم کورٹ رولز میں ترمیم تک از خود نوٹس کا اختیار استعمال نہیں ہونا چاہیے، جب تک بینچز کی تشکیل سے متعلق چیف جسٹس کے اختیارات میں ترمیم نہیں ہوتی تمام مقدمات کو موخر کیا جائے۔‘

یہ تحریری فیصلہ جسٹس قاضی عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جاری کیا جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین نے از خود نوٹس کے زیر سماعت مقدمات کو موخر کرنے کا فیصلہ دیا جبکہ جسٹس شاہد وحید نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا۔

دو، ایک کے تناسب سے جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بینچ کی تشکیل کے رولز کے مطابق خصوصی بینچز کا تصور نہیں ہے۔ ’چیف جسٹس کے پاس اختیار نہیں کہ بینچ کی تشکیل کے بعد کسی جج کو بینچ سے الگ کرے۔‘

فیصلے کے مطابق ’سپریم کورٹ چیف جسٹس اور تمام ججز پر مشتمل ہوتی ہے۔ آئین چیف جسٹس کو اپنی مرضی کے خصوصی بینچ بنا کر اپنی مرضی کے ججز شامل کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔‘

اس فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال کرنے کے لیے ججز کا احتساب ہونا چاہیے۔ بینچ کی تشکیل اور مقدمات مقرر کرنے کا طریقہ کار صاف شفاف ہونا چاہیے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بارہ صفحات پر مشتمل فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’آئین اور رولز چیف جسٹس کو سپیشل بینچ تشکیل دینے کی اجازت نہیں دیتے، آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر درخواستوں کے حوالے سے رولز موجود ہیں، لیکن سوموٹو مقدمات مقرر کرنے اور بyنچز کی تشکیل کے لیے رولز موجود نہیں ہیں۔ رولز کی تشکیل تک اہم آئینی اور ازخود مقدمات پر سماعت مؤخر کی جائے۔‘

اس کے علاوہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 184/3 کے مقدمات میں فیصلوں کے سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ آئین میں سوموٹو نامی لفظ کہیں موجود ہی نہیں ہے۔

فیصلے کے مطابق ’ججز نے آئین اور قانون کے مطابق کام کرنے کا حلف لے رکھا ہے۔ ججز دوسرے لوگوں کی سزا یا جزا کا فیصلہ کرتے ہیں، ججز کو احتساب سے دور رکھنا اخلاقی، قانونی اور مذہبی لحاظ سے غلط ہے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان