وفاق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے آئین میں کیا تبدیلیاں چاہتا ہے؟

اگرچہ مجوزہ چودھویں ترمیم کے خدو خال ابھی واضح نہیں تاہم ترمیمی مسودے کے دستیاب صفحات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ  مالیاتی اور انتظامی اختیارات کی مظفرآباد سے واپس اسلام آباد منتقلی کے علاوہ اس خطے کی آئینی حیثیت میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں بھی زیر بحث ہیں۔

(اے ایف پی)

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ مجوزہ ترمیم کے ذریعے بیشتر آئینی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات وزارت امور کشمیر کے تحت 'آزاد جموں و کمشیر کونسل' کو منتقل کیے جا رہے ہیں جو دو سال قبل تیرہویں آئیںی ترمیم کے ذریعے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی اور حکومت کو تفویض ہوئے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی ان اختیارات کی واپس منتقلی کا اعلان کیا تھا اور وفاقی وزیر قانون (وقت) بیرسٹر فروغ نسیم کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔

اس کمیٹی نے ایک نیا ترمیمی مسودہ تیار کر کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو بھیجا ہے اور اب حکومت پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ یہ مسودہ قانون ساز اسمبلی اور 'آزاد جموں و کشمیر کونسل' کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔

حکومتی ذرائع کے بقول مجوزہ ترمیم کے لیے اب تک تین مسودے اسلام آباد سے مظفرآباد بھجوائے گئے ہیں تاہم ان میں سے کسی پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ تیسرے مسودے پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پارلیمانی جماعتوں کے ساتھ مشاورتی عمل آئینی کمیٹی کے چیئرمین اور سنیئر وزیر طارق فاروق کی بیماری کے سبب تعطل کا شکار ہے تاہم پاکستان کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر اس سلسلے میں مسلم کانفرنس کے سپریم ہیڈ اور سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان سے ملاقات کر چکے ہیں۔

اگرچہ مجوزہ چودھویں ترمیم کے خدوخال ابھی واضح نہیں تاہم مقامی میڈیا میں لیک ہونے والے ایک مسودے کے کچھ صفحات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس ترمیم کے ذریعے اختیارات کی مظفرآباد سے واپس اسلام آباد منتقلی کے علاوہ اس خطے کی آئینی حیثیت میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں بھی زیر بحث ہیں۔  ان تبدیلیوں میں عبوری آئین میں موجود لفظ 'ریاست' کو 'آزاد جموں وکشمیر' سے تبدیل کرنے کے علاوہ اس علاقے میں کشمیرکی خود مختاری کی حامی سیاسی جماعتوں پر بندشیں  اور ججز کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی بھی شامل ہیں۔

نئے ترمیمی مسودے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں 12 نشستوں کے اضافے اور ان نشستوں کو بھارت کے زیر انتظام علاقوں جموں، کشمیر اور لداخ پر اس طرح تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے کہ جموں اور کشمیر کے پانچ پانچ جبکہ لداخ کے لیے دو نشستیں مختص ہوں۔ تاہم ان علاقوں کی 'آزادی' تک ان نشستوں پر انتخاب نہ کروانے کی تجویز بھی مسودے میں شامل ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے علاقوں جموں اور کشمیر کے لیے پہلے ہی قانون ساز اسمبلی میں چھ چھ نشستیں مختص ہیں تاہم لداخ کے لیے کوئی نشست موجود نہیں۔

صحافی و تجزیہ کار عبدالحکیم کشمیری نے مسودے میں شامل لفظ 'ریاست' کو حذف کرنے اور کشمیر کی خود مختاری کی حامی سیاسی جماعتوں پر بندشوں کی تجاویز کو پاکستان کی جانب سے ریاست جموں کشمیر سے دستبرداری کی جانب پیش رفت قرار دیا۔

انڈیپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: 'بظاہر پاکستان نے بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدام کو تسلیم کر لیا ہے اور اب پاکستان صرف اپنے زیر انتظام علاقوں کے دفاع کی بات کرتا ہے۔ اس طرح کی آئینی تبدیلیوں کا مقصد بتدریج علاقے کی آئینی حثیت کو بدل کر اسے مکمل طور پر پاکستان میں مدغم کرنا ہے۔'

واضح رہے کہ دو سال قبل ہونے والی تیرہویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں ٹیکسوں کی وصولی سمیت کئی ایسے اختیارات پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو منتقل ہوئے جو پہلے وزارت امور کشمیر کے تحت قائم 'آزاد جموں وکشمیر کونسل' نامی ادارہ استعمال کرتا تھا۔ اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سمیت کئی دوسرے رہنما اسے ایک متوازی حکومت سے تشبیہہ دیتے تھے جو ان کے بقول پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی مختلف انتظامی اور آئینی امور کے علاوہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں وفاقی حکومت کی مداخلت کا راستہ تھا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ٹیکسوں کی وصولی کا اختیار اسلام آباد سے مظفرآباد منتقل ہونے کے اگلے ہی مالی سال میں مقررہ مالیاتی ہدف سے کم از کم دو ارب روپے کے اضافی ٹیکس جمع کیے گئے جبکہ انتظامی اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئی اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کا وفاقی حکومت پر مالیاتی انحصار بھی کم ہوا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وزارت امور کشمیر کے بعض افسران ٹیکسوں کے نفاذ اور وصولی کے اختیارت کے علاوہ 'آزاد جموں وکشمیر کونسل' کے انتظامی اختیارات کی واپسی چاہتے ہیں تاکہ وہ ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی کل رقم کا 20 فیصد حصہ  'انتظامی اخراجات' کی مد میں وصول کر سکیں۔ اختیارات کی واپس منتقلی کی صورت میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کا وفاقی حکومت پر مالیاتی انحصار ایک مرتبہ پھر بڑھ جائے گا۔ ماضی میں اس صورت حال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کے علاوہ حکومت کئی کئی ماہ تک اوور ڈرافٹ پر چلتی رہی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان کی سربراہی میں قائم آزاد جموں و کشمیر کونسل کے کل 14 ممبران ہیں جن میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر اور وزیر اعظم کے علاوہ چھ اراکین کا انتخاب قانون ساز اسمبلی کے ذریعے ہوتا ہے جبکہ چھ ممبران  وزیر اعظم پاکستان نامزد کرتے ہیں۔ عام طور پر ان ممبران میں وزیر امور کشمیر، وزیر خارجہ اور وزیر خزانہ کے علاوہ اراکین پارلیمنٹ شامل ہوتے ہیں۔

ماضی میں 'آزاد جموں وکشمیر کونسل' کے نامزد اراکین پر الزام رہا ہے کہ وہ قانون سازی کے عمل کو متاثر کرنے کے علاوہ کونسل کے ترقیاتی فنڈز کاایک بڑا حصہ غیر قانونی طور پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے باہر اپنے انتخابی حلقوں میں استعمال کر لیتے ہیں جبکہ دوسری جانب منتخب اراکین کے ذریعے یہ فنڈز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عام انتخابات میں 'دھاندلی' کے لیے بھی استعمال ہونے کا الزام رہا ہے۔

اگرچہ تیرہویں ترمیم کے نتیجے میں اسلام آباد اور مظفرآباد کے درمیان آئینی رشتوں بارے کئی ابہام بھی پیدا ہوئے ہیں اور وزارت امور کشمیر کے افسران ان اختیارات کی مظفرآباد منتقلی کے عمل میں رکاوٹ ڈالتے رہے ہیں تاہم عام تاثر یہی ہے کہ اس ترمیم کے نتیجے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت اور قانون ساز اسمبلی مالیاتی اور انتظامی امور میں پہلے کی نسبت زیادہ با اختیار ہوئی۔

آئینی امور کے ماہر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس،  جسٹس(ر) سید منظور حسین گیلانی تیرہویں ترمیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے آئینی ابہامات کو چودہویں ترمیم کے ذریعے دور کرنے کے حامی ہیں تاہم ان کے بقول:  'اگر آئینی ترمیم مقامی حکومت کو بے وقار کرنے کے لیے حکومت پاکستان کی طرف سے مسلط کی جارہی ہیں، تو (بہتر ہے کہ) سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی تشریحات کے مطابق حکومت پاکستان کو ترمیمی مسودہ  بنا کر بھیجا جائے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈیپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'سلامتی کونسل کی قراردادوں میں واضح طور لکھا ہے کہ  لوکل اتھارٹی کو اندرونی طور مکمل سیاسی اور انتظامی اختیار حاصل ہوگا۔  پاکستان اگر مسئلے کا حل سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے تحت چاہتا ہے تو ان پر عمل بھی روح کے مطابق کرنا پڑے گا۔  وگرنہ مسئلہ کشمیر کے حتمی حل تک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کو الگ الگ یا ملاکر صوبے جیسے حقوق دیے جائیں تاکہ پالیسی ساز اور  فیصلہ ساز آئینی اداروں میں یہ علاقے آئینی طور ایک ممبر کی حیثیت سے حصہ لیں۔  وفاق کی طرف سے ان علاقوں کو بالا دستی کی لاٹھی سے نہ ہانکا جائے۔  اس سے مرکز کے خلاف باشعور لوگوں کے جذبات بھڑکتے ہیں۔'

سپریم کورٹ  آف پاکستان اور نیشنل فنانس کمیشن کا دائرہ کار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر تک بڑھانے کے سوال پر جسٹس گیلانی نے کہا کہ 'پاکستانی اداروں کا دائرہ کار پاکستان کے آئین کے ذریعے ہی بڑھایا جا سکتا ہے، کسی انتظامی حکم یا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے آئین کے تحت نہیں۔ اس سے یہاں کے حکومتی اداروں اور لوگوں کی استعداد بڑھے گی۔ ایسا کرنا نا گزیر ہے لیکن کسی آئینی سکیم کے تحت ہونا چاہیے، دب دباؤ کے تحت نہیں۔ اس معاملے پر پاکستان کو اپنی پالیسی اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے قائدین کو اپنی سمت درست کرنا پڑے گی۔'

متعدد بار رابطے کے باوجود وفاقی وزارت امور کشمیر نے اس معاملے پر کوئی واضح تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ وزیر امور کشمیر علی امین گنڈہ پور کو بھیجے گئے سوالات کے جواب میں ان کے میڈیا کوارڈینیٹر کا کہنا تھا کہ جب تک کمیٹی کی تجاویز پر اتفاق رائے پیدا نہ ہو جائے وہ اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ کمیٹی کے چیئر مین بیرسٹر فروغ نسیم چند روز قبل وزارت سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا