خلائی مخلوق کے لیے لائبریری بنانے کا منصوبہ

زمین سے باہر زندگی کی تلاش پر مامور ادارے سیٹی انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ یہ لائبریری کائنات میں بسنے والی خلائی مخلوق کو انسانوں کے ساتھ معلومات بانٹنے کی دعوت دیتی ہے۔

جنوبی افریقہ میں نصب ایک ریڈیو ٹیلی سکوپ (اے ایف پی فائل)

کائنات میں زمین سے باہر ذہانت کی تلاش کرنے والا ادارہ سیٹی انسٹی ٹیوٹ خلائی مخلوق کے لیے ایک مخصوص لائبریری بنانے میں معاونت کر رہا ہے۔

(سیٹی دراصل SETI ہے، یعنی Search for Extra-terrestial Intelligence)

یہ لائبریری ’دا گریٹ سائلنس‘ یعنی ’عظیم خاموشی‘ کے جواب میں سیٹی کی کاوش ہے۔ ’عظیم خاموشی‘ وہ تصور ہے کہ ایک لامحدود (یا قریب قریب لامحدود) کائنات، جس میں انسانوں کے علاوہ اور بھی مخلوقات کو بسنا چاہیے، وہاں زمین اور دوسری تہذیبوں کے درمیان ذرا بھی مواصلات نہیں۔

اس تصور کو عام طور پر فرمی پیراڈاکس کہا جاتا ہے۔ ہماری کہکشاں میں ایک کھرب سے چار کھرب کے درمیان ستارے ہیں اور ان میں اور بھی سیارے ہیں جو ان کے گرد مدار میں ہیں۔

ہماری قابل مشاہدہ کائنات میں ممکنہ طور پر قریباً دو ہزار ارب کہکشائیں ہیں، اس بڑی تعداد میں یہ ممکن ہے کہ نہ صرف ایک بلکہ لاکھوں ایسے سیارے ہوں جہاں زندگی موجود ہو۔

چونکہ انسانوں کا اب تک ان خلائی مخلوقات کے ساتھ رابطہ نہیں ہو پایا ہے، اس لیے نوبیل انعام جیتنے والے ماہر طبیعیات انریکو فرمی نے سوال اٹھایا تھا: ’وہ کہاں ہیں؟‘

سائنس دانوں کا مفروضہ ہے کہ مواصلات نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ایک بڑا فلٹر ہے یعنی زندگی کو ستاروں کے درمیان خلا میں بسنے کے لیے مختلف مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تہذیبیں ایک جگہ ٹھہری نہیں رہتیں کہ ہم انہیں ڈھونڈ سکیں، بلکہ وسائل کی کمی، جنگیں، موسمیاتی تبدیلیوں اور دوسرے مسائل کے باعث ختم ہو جاتی ہیں۔

سیٹی کا کہنا ہے: ’چونکہ کچھ تہذیبیں خود کو لاحق ایسے خطرات سے کامیابی سے بچ گئی ہوں گی جو مستقبل میں اوروں کو بھی لاحق ہوں، اس لیے سب ایک بین الستارہ لائبریری میں حصہ ڈال کر فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔‘

’عظیم خاموشی‘ کی لائبریری کائنات میں اور مخلوقات کو دعوت دیتی ہے کہ وہ تباہ کن خطرات اور بچاؤ کی حکمت عملی کو بانٹیں، کیونکہ ایسی معالومات سب کے لیے اہم ہیں۔

یہ نیا ریسرچ سینٹر ’تبدیلی کے لمحات‘ سے وابستہ اشیا کا ذخیرہ ہو گا۔ یہ قدرتی ہوں گی جیسے لاوا، آسمان سے گرنے والے پتھر یا معدوم جانوروں کے فاسل اور انسان کی بنائی ہوئی جیسے کلہاڑیاں، پیسہ، ٹرینیٹائٹ (پہلے ایٹم بم کے دھماکے میں بننے والا شیشہ) اور پلاسٹیگلومریٹ (ریت اور پلاسٹک کا آمیزہ)۔

یہ لائبریری فی الوقت واحد ہی ہے، مگر ممکن ہے کہ اور بھی بن جائیں۔ ’سپیس‘ میگزین سے بات کرتے ہوئے تجرباتی فلسفی اور سیٹی میں آرٹسٹ ان ریزیڈنس جوناتھن کیٹس نے کہا: ’ہم پہلے سے موجود لائبریریوں سے بات کر رہے ہیں یہ جاننے کے لیے کہ کیا اور شاخوں کی میزبانی کرنا چاہیں گی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اس کے ساتھ ساتھ ہم سیارے سے باہر بھی دیکھ رہے ہیں اور اس پر غور کر رہے ہیں کہ چاند پر اس کی شاخ قائم کرنے کے لیے کیا درکار ہو گا۔‘

سیٹی کا کہنا ہے کہ یہ لائبریری ’موقعے سے لے کر پیچیدگی اور اوور ریچ جیسی چیزوں‘ کے لیے جگہ فراہم کرے گی‘ اور ’معلومات اور تصورات شیئر کرنے کے لیے دعوت کائنات میں نشر کی جائے گی۔‘

© The Independent

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس