پی ٹی آئی لانگ مارچ ’آئینی بحران‘، لارجر بینچ سماعت کرے گا: اسلام آباد ہائی کورٹ

عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان، چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز اور آئی جیز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 10 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے کارکان 24 نومبر 2024 کو ایک احتجاجی ریلی کی صورت میں اسلام آباد کی جانب بڑھتے ہوئے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج اور لانگ مارچ کے معاملے کو ’آئینی بحران‘ قرار دیتے ہوئے لارجر بینچ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل پاکستان، چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز اور آئی جیز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 10 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اور احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

پارٹی کے مطابق اس احتجاج کا مقصد بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی، جیل میں ان تک اہلِ خانہ اور وکلا کی رسائی اور ان کے مقدمات میں تیزی لانا ہے۔

اسی حوالے سے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے منگل کو شہری وقاص احمد کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل اسلام آباد میں کاروبار کرتے ہیں اور پی ٹی آئی کے احتجاج سے شہریوں اور کاروباری سرگرمیوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

وکیل نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اسلام آباد احتجاج کا اعلان کیا ہے اور سرکاری مشینری کے ہمراہ اسلام آباد آنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’آپ کس طرح متاثرہ ہیں؟‘ جس پر وکیل نے کہا کہ احتجاج اسلام آباد لانے کی صورت میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔

درخواست گزار کے وکیل نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مختلف بیانات اور اخباری تراشے بھی عدالت کے سامنے پیش کیے۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کے متعلقہ معاملات اور مقدمات پہلے ہی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، اس لیے احتجاج کے ذریعے دباؤ ڈال کر عدالتی ریلیف حاصل کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔

ان کے مطابق اگر عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات کی بنیاد پر سڑکوں پر احتجاج کو جواز بنایا جائے تو ملک بھر میں ہر مقدمے کے فریق کو ایسا کرنے کا حق حاصل ہوجائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

درخواست گزار کے وکیل نے 2024 کے پی ٹی آئی احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس احتجاج کے دوران تین رینجرز اہلکاروں کی جان گئی۔

وکیل نے سوال اٹھایا کہ اگر احتجاج پرامن تھا تو تین رینجرز اہلکاروں کی اموات کیسے ہوئیں۔

سماعت کے دوران وزارت داخلہ کا 21 نومبر 2024 کا خط بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی میں سرکاری مشینری کے استعمال سے متعلق ہدایات کے باوجود اس کا استعمال کیا گیا، جبکہ موجودہ احتجاج کے حوالے سے تاحال اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس کوئی درخواست نہیں دی گئی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے قانونی تقاضوں کو یقینی بنایا جائے۔

عدالت نے معاملے کی حساسیت اور آئینی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ کیا اور اٹارنی جنرل سمیت چاروں صوبوں کے آئی جیز اور ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردیے۔

جس کے بعد کیس کی مزید سماعت 10 ستمبر کو ہو گی۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست