’لانگ مارچ میں دہشت گردوں کی سہولت کاری‘: محسن نقوی، گورنر ملاقات

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے موقعے پر پشاور میں گورنر فیصل کریم کنڈی سے اہم ملاقات کی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مذاکرات کی ناکامی کی پوری ذمہ داری وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر ڈالتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد کی جانب بڑھنے والے لانگ مارچ سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

انہوں نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مذاکرات کرنے والی پی ٹی آئی ٹیم کو سراہا اور کہا کہ معاہدہ 99 فیصد طے پا چکا تھا۔

’معاہدے کے 99 فیصد نکات پر اتفاق ہو گیا تھا۔ اس کے بعد میں مسودہ لے کر صدر مملکت کے پاس گیا، جب واپس آیا تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اس میں تبدیلی کر دی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی ناکامی کا صرف ایک شخص ذمہ دار ہے اور وہ سہیل آفریدی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ لانگ مارچ میں شامل سیاسی لیڈروں اور دوسرے لوگوں کے خلاف توہین عدالت کے تحت کارروائی کی جائے گی اور اسلام آباد کی جانب آنے والے جتھے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ اگر لانگ مارچ کے دوران ایک بھی جان گئی تو اس کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر ہو گی۔

’لانگ مارچ میں دہشت گردوں کی سہولت کاری کا خدشہ‘

محسن نقوی نے آج لاہور میں پریس کانفرنس کے بعد پشاور کا ہنگامی دورہ کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے اہم ملاقات کی۔

گورنر ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں صوبے کے اندر بڑھتی بدامنی اور لانگ مارچ سے پیدا صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔

 

بیان کے مطابق ملاقات میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا لانگ مارچ کے دوران دہشت گردوں کو سیکورٹی چیک پوسٹوں سے بحفاظت کراس کرانے کی سہولت کاری فراہم کرنے کا خدشہ ہے۔

اسی طرح ’مذاکراتی عمل میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کا رویہ اور کردار عوام اور صوبہ دشمنی کے مترادف تھا اور مسائل کے حل پر اتفاق کے بعد صوبائی حکومت نے ہٹ دھرمی اور غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یو ٹرن کی روش کو دہرایا۔‘

بیان کے مطابق ’ملاقات میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا اور صوبائی وزرا کے لانگ مارچ میں ہیلی کاپٹر اور دیگر سرکاری وسائل کے استعمال کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا گیا۔‘

ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ صوبے کو دہشت گردی اور تباہی سے بچانے کے لیے جب بھی صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان گورنر راج یا ایمرجنسی لگانا ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس بھرپور آئینی کردار ادا کرے گا۔

وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات

وزیراعظم شہباز شریف نے لاہور میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف سے ملاقات کی ہے، جس میں سرکاری ریڈیو کے مطابق ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقعے پر پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز بھی موجود تھیں۔

ڈیڈ لاک کی بنیادی وجہ عمران خان سے نہ ملنے دینا تھا: اسد قیصر

سابق سپیکر قومی اسمبلی و رکن قومی اسمبلی اسد قیصر نے گذشتہ روز اسلام آباد میں حکومتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ ’ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ سب سے پہلے ہمیں عمران خان تک رسائی دی جائے۔ 

’اس کے علاوہ ہم اپنے باقی تمام مطالبات واپس لینے کے لیے تیار تھے۔‘

انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کو عمران خان تک رسائی دی جائے، لیکن حکومتی ٹیم نے کہا کہ یہ مطالبہ فی الحال معاہدے میں شامل نہیں ہو گا اور اس وقت قابل غور نہیں۔‘

اسد قیصر کے مطابق اگر مسلم لیگ (ن) ہر معاملے پر نواز شریف یا شہباز شریف سے مشاورت کرتی ہے اور پیپلز پارٹی ہر معاملے پر بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری سے رہنمائی لیتی ہے تو کیا ہم اپنی پالیسی سازی میں عمران خان سے مشاورت نہیں کریں گے؟ 

اسد قیصر نے مزید کہا کہ ’خیبرپختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کی جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔

’اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔‘

’کے پی حکومت آخری وقت پر پیچھے ہٹ گئی‘

اس سے قبل وزیر داخلہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے جس تحریری معاہدے پر دستخط اور عمل درآمد کا منصوبہ پیش کرنے پر اتفاق کیا تھا وہ آخری وقت میں اس سے ’پیچھے ہٹ‘ گئی۔

وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب طویل مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے تھے۔

پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان چار اکتوبر کے لانگ مارچ اور صوبہ خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج سمیت دیگر سیاسی معاملات سے متعلق مذاکرات کے دوران مذاکراتی ٹیموں کے درمیان ’انسدادِ دہشت گردی اور وفاق سے تعاون کے نکات‘ پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا تھا۔

مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے حکومتی مذاکرات کار رانا ثنااللہ نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں ساتھ دینے پر تیار نہیں ہوئی۔‘

دوسری جانب مذاکرات کے بعد صحافیوں کی طرف سے موجود سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’لانگ مارچ کا جواب گورنر راج نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں مذاکرات کے آپشن برقرار رہتے ہیں۔

اس حوالے سے اب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’خیبر پختونخوا حکومت نے 72 گھنٹوں کے اندر ایک تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور اس پر عمل درآمد کا منصوبہ پیش کرنے پر اتفاق کیا تھا۔‘

محسن نقوی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’گذشتہ رات مذاکرات کے آخری مرحلے کے دوران خیبر پختونخوا حکومت ان وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’صوبہ جنگ کی صورتحال سے دوچار ہے، ایسے میں سکیورٹی کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے چند نکات بھی شیئر کیے جن پر ان کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے اتفاق کیا تھا۔

ان کی جانب سے جاری نکات:

  • سکیورٹی کی صورتحال اور سیکیورٹی معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے کی ضرورت کے پیشِ نظر پولیس ایکٹ 2026 پر نظرِ ثانی۔
  • صوبے میں دہشت گردوں کو آزادانہ طور پر کارروائیاں کرنے یا محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرنے سے روکنا۔
  • ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور دیگر تمام دہشت گرد گروہوں کی غیر مبہم مذمت۔
  • افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت، جس میں واپسی اور خیبر پختونخوا میں افغان کیمپوں کا خاتمہ شامل ہے۔
  • عبوری افغان حکومت سے کوئی رابطہ نہ رکھنا۔
  • انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور پولیس کے لیے خاطر خواہ فنڈز کی فراہمی۔
  • انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کی مکمل صوبائی ذمہ داری قبول کرنا اور مسلح افواج کے ساتھ تعاون مزید مضبوط کرنا۔
  • سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق فیصلے کرنا۔
  • قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد۔

سہیل آفریدی کا ڈرافٹ

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی ایکس پر ’مذاکرات کمیٹی کو بھیجے ڈرافٹ‘ کو شیئر کیا ہے۔

سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ’پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے، ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہماری ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔‘

انہوں نے بھی چند نکات لکھے اور ساتھ کہا کہ ’اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست