برطانیہ کے کثیرالقومی بینکاری اور مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے ادارے ایچ ایس بی سی گروپ کے چیف ایگزیکٹیو جارجز الہیدری نے منگل کو کہا ہے کہ ایران جنگ کے اثرات کم کرنے کے لیے خلیج میں متبادل رسدی راستوں میں سرمایہ کاری کے نتیجے میں آبنائے ہرمز اگلے پانچ سال میں اپنی ’اہمیت کھو‘ سکتی ہے۔
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔
یہ راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے، جہاں سے جنگ سے قبل تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت کا پانچواں حصہ گزرتا تھا۔ اس کی بندش کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی اور توانائی کے بحران کا دباؤ بڑھ رہا ہے، جس پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس تنازعے کے باعث خلیجی ممالک کو توانائی کی پائپ لائنوں کے ذریعے بندرگاہوں تک رسائی کے منصوبوں پر وسائل صرف کرنے پڑ رہے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایچ ایس بی سی کے سربراہ جارجز الہیدری کے مطابق، یہ سرمایہ کاری خطے کو تنازعے کے اثرات برداشت کرنے کے قابل بنائے گی۔
بینک کے چیف ایگزیکٹیو نے دبئی میں ایچ ایس بی سی فیوچر فورم کی تقریب کے دوران کہا: ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ خطہ بحال ہونے اور اس کے بعد ترقی کا سلسلہ جاری رکھنے کے قابل ہے۔ اس کے لیے بہت زیادہ سرمایہ کاری درکار ہوگی۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’یقیناً ہم تنازع کا حل دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کی امید رکھتے ہیں، لیکن ممکن ہے کہ پانچ سال میں آبنائے ہرمز اپنی اہمیت کھو دے۔‘
ایچ ایس بی سی نے پیر کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور ترکی میں انفرادی منصوبوں کے لیے872 ارب ڈالر کے پیکیجز پیش کیے جا رہے ہیں۔ یہ مجموعی طور پر1.4 کھرب ڈالر کے ایسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا حصہ ہیں جن کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے، لیکن جن کے ٹھیکے ابھی نہیں دیے گئے۔
رپورٹ میں دبئی میں قائم تعمیراتی صنعت کے لیے مارکیٹ انٹیلی جنس پلیٹ فارم میڈ (ایم ای ای ڈی) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا گیا۔
دریں اثنا 1,600 سے زائد کاروباری رہنماؤں اور دنیا بھر کے تقریباً 820 ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے درمیان ایچ ایس بی سی کے ایک حالیہ سروے سے معلوم ہوا کہ وہ اب بھی خلیج کو سرمایہ کاری کے لیے ایک پُرکشش مرکز سمجھتے ہیں۔
تاہم2025 میں3.3 فیصد شرح نمو کے بعد عالمی بینک نے گذشتہ ہفتے پیش گوئی کی کہ جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان کے خطے کی معیشت رواں سال 1.3 فیصد سکڑ جائے گی۔ اس کے بعد2027 میں مضبوط لیکن غیر یکساں بحالی متوقع ہے۔
جارجز الہیدری ان عالمی مالیاتی شخصیات میں شامل تھے جن کی سعودی عرب کی سب سے اہم سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت متوقع تھی۔
یہ کانفرنس اگلے ہفتے منعقد ہونا تھی، تاہم یمن میں سرگرم حوثیوں کی جانب سے ریاض پر حملوں کے بعد پیر کو اسے ملتوی کرکے 2027 میں منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا۔