پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب کے ترجمان نے اتوار کو بتایا کہ پولیس نے جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کو لاہور میں ان کے گھر سے گرفتار کر لیا۔
یہ گرفتاری پارٹی کی جانب سے 27 ستمبر کو اعلان کردہ احتجاجی مارچ سے قبل عمل میں آئی۔
لاہور کی ضلعی انتظامیہ کے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ علیمہ خان کو گرفتار کر کے 30 روز کے لیے جیل بھیج دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز نے پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ 3 کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے علیمہ خان اور محمد عامر کو گرفتاری کے بعد 30 روز کے لیے نظربند کرنے کا حکم دیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ پولیس اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس برانچ کی رپورٹس کے مطابق دونوں افراد حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف قابل اعتراض نعرے بازی کے ذریعے عوام کو اشتعال دلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے شہر میں امن و امان کی صورت حال متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
حکم نامے کے مطابق دونوں کو سینٹرل جیل کوٹ لکھپت لاہور میں رکھا جائے گا اور یہ کہ دونوں افراد کو اس فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت کے سامنے درخواست یا نمائندگی کا حق حاصل ہوگا۔
عمران خان کی پارٹی نے آئندہ ہفتے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اہتمام کیا ہے، جس کا مطالبہ عمران خان کی رہائی ہے۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کو کہا تھا کہ حکومت احتجاجی مارچ روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔
عمران خان کے قریبی ساتھی ذلفی بخاری نے علیمہ کی گرفتاری کو ’انتہائی قابل مذمت‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا ’27 ستمبر کے احتجاج کا خوف واضح طور پر اپنا اثر دکھا رہا ہے۔‘
علیمہ خان کے بیٹے شیریز خان نے ایکس پر لکھا ’میری والدہ علیمہ خان کو آج صبح گھر سے نکلنے کے بعد اغوا کر لیا گیا۔
’ہمارے خاندان کا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا اور نہ ہی ہمیں ان کے بارے میں کوئی اطلاع ملی ہے کہ وہ کہاں ہیں۔
’لاہور میں ان کے خلاف درج تمام مقدمات میں وہ ضمانت پر ہیں۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر ان کے بارے میں معلومات فراہم کرے اور ان کی بحفاظت واپسی یقینی بنائے۔‘
My mother, Aleema Khan, was abducted after leaving home this morning. Our family has had no contact or news of her whereabouts. She is on bail in all cases against her in Lahore. We demand the government immediately disclose her whereabouts and ensure her safe return. @Aleema_KhanPK
— Shahrez Khan (@Shahrez_KhanPK) September 20, 2026
پارٹی کی سینٹرل پنجاب شاخ کے ترجمان برگیڈئیر (ر) مشتاق کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ان کی جماعت اس گرفتاری کی شدید مذمت کرتی ہے۔
انہوں نے ساتھ میں بڑی تعداد میں کارکنان کی گرفتاریوں کا بھی دعوی کیا ہے۔
برگیڈئیر (ر) مشتاق کے مطابق علیمہ خان کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ حکومت عوامی انقلاب سے ڈر گئی ہے۔‘
مجھے نورین نیازی صاحبہ نے علیمہ خان صاحبہ کی گرفتاری کے بارے میں فون پر بتایا- ہم نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ ہمارا مارچ پُرامن اور سیاسی ہوگا۔ ہمارا مقصد اپنے آئینی و سیاسی مطالبات کے لیے پُرامن جدوجہد کرنا ہے، کسی قسم کا تصادم یا تشدد نہیں چاہتے - ایسے میں علیمہ خانم صاحبہ کو گرفتار کرنا یا ایم پی او کے تحت نظر بند رکھنا تشدد اور کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ اسکی شدید مذمت کرتے ہیں-حالات کو خراب کرنے کا یہ پہلا قدم ہے- یہ تمام اقدامات فی الفور بندکیے جائیں۔ علیمہ خان صاحبہ کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں- ایسے اقدامات کے خلاف پارٹی اپنا لائحہ عمل جلد دیگی-
— Barrister Gohar Khan (@BarristerGohar) September 20, 2026
پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اتوار کی صبح خبردار کیا کہ احتجاج اور دھرنوں کے نتیجے میں معیشت کو روزانہ تقریباً 120 ارب روپے کا نقصان ہوسکتا ہے۔
ان کا یہ انتباہ ایک ریکارڈ شدہ ٹی وی پیغام میں سامنے آیا۔ ایک تحقیقی مطالعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے حکومت کا عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اس مارچ کو روکنے کے لیے اقدامات کرے گی۔