ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں 6 پاکستانی زخمی، سفارت خانہ رابطے میں ہے: شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ انہیں ریاض ایئرپورٹ پر ’حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں چھ پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے کی خبر سن کر گہرا دکھ ہوا ہے۔‘

تین اکتوبر، 2026 کو ریاض کے جنوب میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب میں آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ انہیں ریاض کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ’حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں چھ پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے کی خبر سن کر گہرا دکھ ہوا ہے۔‘

یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد نے آج بتایا کہ ریاض ایئرپورٹ کے ایک ٹرمینل پر نامعلوم پروجیکٹائل گرنے سے آگ بھڑک اٹھی۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ نامعلوم پروجیکٹائل کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر گرا۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے ایئرپورٹ کے قریب ایک کروز میزائل کو ’روک کر تباہ کر دیا۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

تازہ حملے کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں، البتہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ انہیں ایئرپورٹ پر ’حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں چھ پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے کی خبر سن کر گہرا دکھ ہوا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ریاض میں ہمارا سفارت خانہ سعودی حکام سے قریبی رابطے میں ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے۔‘

یہ حملہ اسی ایئرپورٹ کے حصے میں ہوا جہاں اندرون ملک پروازوں کے لیے ٹرمینل 3 اور 4 واقع ہیں۔

یہ حملہ اس وقت ہوا جب حوثیوں نے کہا کہ یمن کے دارالحکومت صنعا میں ان کے زیر کنٹرول ایئرپورٹ کو ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا۔ 

انہوں نے اس حملے کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

گذشتہ روز بھی کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملہ ہوا تھا جس میں 12 افراد جان سے گئے جبکہ  300 سے زائد افراد زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویش ناک تھی۔

اتوار کے حملے کے وقت ایئرپورٹ بند تھا اور حکام نے دارالحکومت کے سکولوں میں آن لائن تعلیم شروع کروا دی تھی۔

آر 4 گروپ کی شدید مذمت

آر فور گروپ کی ریاستوں (پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی) نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے مسلسل جارحانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے گروپ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق یہ حملے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ’گروپ اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ یہ حملے مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں، جو اس کی سلامتی، استحکام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

’یہ ایک خطرناک کشیدگی ہے جسے کسی بھی بہانے سے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی قبول کیا جا سکتا ہے۔‘

بیان کے مطابق ’گروپ مملکت سعودی عرب کے ساتھ اپنی یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ اس میں ان حملوں کا مقابلہ کرنے، خطرات کے ذرائع کو باز رکھنے اور ان حملوں کی دوبارہ روک تھام کے لیے تمام جائز اقدامات کی مکمل حمایت شامل ہے تاکہ مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کیا جا سکے اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اس کے شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

’گروپ حوثی ملیشیا کو ان حملوں کے نتائج اور ان کے نتیجے میں علاقائی و بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق ہونے والے کسی بھی خطرے کا مکمل ذمہ دار ٹھہراتا ہے اور ان حملوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر روکنے کا مطالبہ کرتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان نے گذشتہ روز کے ’دہشت گرد حملے‘ کی بھی شدید مذمت کی تھی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق شہری ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا ’دہشت گردی کا سنگین اقدام، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔‘

دفتر خارجہ کے کے مطابق پاکستان نے حملے کے نتیجے میں جانی نقصان اور افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ ’حوثی ملیشیا کی جانب سے شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں اور عالمی برادری کو اس کی غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرنی چاہیے۔‘

’جارحیت کے ایسے کھلے اور بلاامتیاز اقدامات کا کسی بھی صورت جواز پیش نہیں کیا جاسکتا اور انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا