عمانی وزیر خارجہ دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی آٹھویں پاکستان-عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں شرکت کے علاوہ اسحاق ڈار سے ملیں گے۔

عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی منگل کو دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔

دفتر خارجہ نے ایکس پر بتایا کہ ہوائی اڈے پر ان کا استقبال وزارت اقتصادی امور کے ایڈیشنل سیکریٹری اور وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکریٹری (مشرق وسطیٰ) نے کیا۔

عمان کے وزیر خارجہ آٹھویں پاکستان-عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس میں عمانی وفد کی قیادت کریں گے اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے دوطرفہ ملاقات بھی کریں گے۔

یہ دورہ ایک ایسے موقعے پر ہو رہا ہے جب آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کے باعث خطے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

پاکستان سفارتی کوششوں کے ذریعے اس کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کی کوشش کر رہا ہے جبکہ عمان نے، جو ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کا کنٹرول شیئر کرتا ہے، علاقائی تنازعات خصوصاً تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے پیر کی شام جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ’دورے کے دوران اسلام آباد میں پاکستان-عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کا 8واں اجلاس منعقد ہوگا، جس کی مشترکہ صدارت دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کریں گے۔‘

بیان کے مطابق ’یہ اجلاس پاکستان اور عمان کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔‘

اگرچہ وزارت خارجہ کے بیان میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس بات کا کوئی اشارہ ملا کہ یہ امور رسمی طور پر ایجنڈے پر شامل ہیں۔

تاہم خلیج میں دونوں ممالک کے معاشی اور سکیورٹی مفادات کو مدِنظر رکھتے ہوئے بڑھتا ہوا علاقائی بحران دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

آبنائے ہرمز، جو خلیج عرب کو خلیج عمان اور بحرِ عرب سے ملاتی ہے، دنیا کے اہم ترین توانائی کی نقل و حمل کے راستوں میں سے ایک ہے۔

اس آبی گزرگاہ کے ذریعے نقل و حمل میں خلل نے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کو متاثر کیا ہے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر پاکستان جیسے درآمدات پر منحصر ممالک اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب یمن میں سرگرم حوثی ملیشیا سعودی ایئرپورٹس اور دیگر شہری تنصیبات پر حملے کر رہے ہیں۔

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق اتوار (11 اکتوبر) کو دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک حملے میں ایک پاکستانی شہری جان سے گیا تھا جبکہ 11 دیگر افراد زخمی ہو گئے تھے۔

اس سے قبل آٹھ اکتوبر کو بھی اسی ایئرپورٹ پر ہونے والے دو حملوں میں ایک پائلٹ سمیت تین سعودی شہری جان سے گئے تھے جبکہ سعودی ایئرلائنز کا ایک طیارہ بھی متاثر ہوا۔

پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی نے اتوار کو ایک مشترکہ بیان میں ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا اور اپنی سکیورٹی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ریاض کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ عمانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد میں قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کا امکان ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان