برطانیہ میں خاندانی نام ’خان‘ 2027 میں ’سمتھ‘ کو پیچھے چھوڑ کر نوزائیدہ بچوں کا سب سے عام خاندانی نام بن سکتا ہے۔
دفتر برائے قومی شماریات (او این ایس) کے اعداد و شمار کے تجزیے سے ظاہر ہوا ہے کہ ’سمتھ‘ کی مقبولیت میں گذشتہ 30 برسوں سے کمی آ رہی ہے، جبکہ روایتی طور پر مسلمانوں میں عام نام ’خان‘ کی مقبولیت اس عرصے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں انگلینڈ اور ویلز میں 4,102 بچوں کی پیدائش کے اندراج میں خاندانی نام ’سمتھ‘ درج کیا گیا جبکہ 3,772 بچوں کے ساتھ ’خان‘ دوسرے نمبر پر رہا۔
’سمتھ‘ کی مقبولیت میں سالانہ اوسطاً 4 فیصد کمی اور خان کی مقبولیت میں سالانہ اوسطاً 1.9 فیصد اضافے کے پیش نظر امکان ہے کہ ’خان‘ 2027 میں سرفہرست مقام حاصل کر لے گا۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے مائیگریشن آبزرویٹری کی محقق نونی یورگینسن نے کہا کہ یہ رجحان نقل مکانی کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ ’خان‘ جنوبی ایشیائی ممالک میں عام خاندانی نام ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’گذشتہ چند برسوں کے دوران برطانیہ میں جنوبی ایشیائی ممالک سے نقل مکانی میں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً 2021 کے بعد۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’حالیہ عرصے میں برطانیہ میں پیدا ہونے والی خواتین کے ہاں بچوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان علاقوں سے تعلق رکھنے والی تارکین وطن ماؤں کا مجموعی پیدائشوں میں حصہ بڑھ رہا ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دفتر برائے قومی شماریات (او این ایس) کے نئے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین دہائیوں کے دوران روایتی برطانوی خاندانی ناموں کی مقبولیت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
1996 میں سرفہرست 10 تمام خاندانی نام روایتی برطانوی پس منظر کے حامل تھے، جن میں ’سمتھ‘، ’جونز‘ اور ’ولیمز‘ پہلے تین نمبروں پر تھے۔ تاہم 2025 تک ان میں سے صرف تین نام سرفہرست 10 میں باقی رہ گئے، جبکہ ’خان‘، ’احمد‘، ’سنگھ‘ اور ’حسین‘ جیسے نام اس فہرست میں شامل ہو گئے۔
دوسری جانب بعض روایتی برطانوی خاندانی ناموں کی مقبولیت میں نمایاں کمی ہوئی۔ ’لانگ‘ نام کی مقبولیت 1996 کے بعد سے 55 فیصد، ’پاٹر‘ کی 54 فیصد، ’کار‘ کی 52 فیصد اور ’ہیمنڈ‘ کی 52 فیصد کم ہوئی۔
خاندانی ناموں کا بدلنا بچوں کے پہلے ناموں کے حوالے سے حالیہ رجحانات سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔
او این ایس کے مطابق 2023 میں ’محمد‘ پہلی مرتبہ انگلینڈ اور ویلز میں لڑکوں کا سب سے مقبول نام بن گیا، جس کے تحت 4,600 سے زیادہ بچوں کی پیدائش کا اندراج کیا گیا۔ اس نام کے دیگر ہجوں، جن میں ’محمد‘ کے مختلف انگریزی ہجے بھی شامل ہیں، کو بھی 100 مقبول ترین ناموں میں جگہ ملی۔
’محمد‘ 2024 اور 2025 میں بھی لڑکوں کے مقبول ترین نام کے طور پر پہلے نمبر پر برقرار رہا۔