اختلافات کے باوجود پاکستان سے تعلقات ضروری: امریکی وزیر خارجہ

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے ساتھ روابط سے علاقائی سکیورٹی سے متعلق خدشات دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو کہا کہ بعض پالیسی اختلافات کے باوجود واشنگٹن کے لیے جوہری ہتھیار رکھنے والے پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا ضروری ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے ساتھ روابط سے علاقائی سکیورٹی سے متعلق خدشات دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

امریکہ کے پاکستان اور انڈیا دونوں کے ساتھ طویل عرصے سے سکیورٹی اور سفارتی تعلقات ہیں۔

تاہم پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بنیادی طور پر کشمیر اور ایک دوسرے کی سرزمین پر عسکریت پسندی کو ہوا دینے کے الزامات کے باعث کشیدہ ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

2025  میں مارکو روبیو نے، جو اس وقت امریکی سینیٹر تھے، یہ عزم بھی ظاہر کیا تھا کہ اگر پاکستان انڈیا کے خلاف عسکریت پسندی کی سرپرستی کرتا ہے تو وہ پاکستان کے لیے امریکی سکیورٹی امداد میں کمی کی قانون سازی متعارف کرائیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ اس وقت انڈیا کے دورے پر ہیں، جہاں وہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

توقع ہے کہ ان مذاکرات میں دفاع، تجارت، ٹیکنالوجی اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر توجہ دی جائے گی۔

 امریکہ انڈیا کے ساتھ اپنی شراکت داری مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

مارکو روبیو نے انڈیا کے نشریاتی ادارے نیوز 18  کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہ ایک ایسا ملک ہے جس کے ساتھ ہمیں تعلقات رکھنا ضروری ہیں۔

’یہ جوہری ہتھیار رکھنے والا ملک ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے بھی ہمارے لیے اس کے ساتھ روابط رکھنا ضروری ہے، بالکل اسی طرح جیسے انڈین حکومت کے لیے ایران کے ساتھ تعلقات رکھنا ضروری ہے، اس کے ایران کے ساتھ تعلقات ہیں اور وہ ایرانی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کرتی ہے۔

’میرے خیال میں ایک لحاظ سے یہ مثبت بات ہو سکتی ہے کیونکہ اگر ہمارے پاکستان کے ساتھ تعلقات ہوں اور ہم اس سے بات چیت کر سکیں تو شاید اس سے ہمیں ان سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی میں مدد مل سکے جن کے بارے میں انڈیا کو خدشات ہیں۔‘

انڈیا پاکستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں عسکریت پسندوں کی حمایت کرتا ہے جبکہ اسلام آباد کا الزام ہے کہ نئی دہلی افغانستان سے متصل پاکستان کے مغربی صوبوں میں حملے کرنے والے عسکریت پسند گروہوں کی پشت پناہی کرتی ہے۔

دونوں ممالک ایک دوسرے کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

جوہری ہتھیار رکھنے والے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان گذشتہ سال ایک مختصر لیکن شدید فوجی تصادم ہوا تھا، جس کا آغاز انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک عسکریت پسند حملے کے بعد ہوا۔

اس تصادم کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف لڑاکا طیاروں، میزائلوں، ڈرونز اور توپ خانے کا استعمال کیا، جس کے بعد جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ جنگ بندی امریکی ثالثی کے نتیجے میں ممکن ہوئی، تاہم انڈیا نے اس دعوے کی تردید کی تھی۔

روبیو نے کہا کہ اگرچہ وہ ماضی میں بطور امریکی سینیٹر اس معاملے پر اظہار خیال کر چکے ہیں لیکن وزیر خارجہ کی حیثیت سے ان کی ذمہ داریوں کا تقاضا ہے کہ وہ امریکی خارجہ پالیسی کے وسیع تر تقاضوں اور مفادات میں توازن برقرار رکھیں۔

انہوں نے کہا ’ہم دنیا میں ہر جگہ دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ ہم دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ہر فرد یا فریق کے خلاف ہیں۔‘

’اپنے نئے کردار میں اب میں سینیٹر نہیں بلکہ وزیر خارجہ ہوں۔

’مجھے امریکہ کی خارجہ پالیسی چلانی ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات رکھیں، جن میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جن کے ساتھ بعض معاملات پر ہمارے اختلافات ہو سکتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا