سکیورٹی خدشات سے نمٹنے کے لیے پاک افغان براہ راست مذاکرات ضروری: افغان سفیر

سردار احمد شکیب نے آج نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں کہا کہ ’نہ افغانستان اپنی جغرافیہ بدل سکتا ہے اور نہ پاکستان، دونوں ہمیشہ ہمسایہ رہیں گے۔ سوال یہ نہیں کہ تعلقات رہیں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ دونوں ممالک اچھے ہمسائیوں کی طرح کیسے رہ سکتے ہیں۔‘

پاکستان میں افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب یکم ستمبر 2026 کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں خطاب کر رہے ہیں (سکرین گریب، ایکس، افغانستان ایمبیسی پاکستان)

پاکستان میں افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب نے آج نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے بارے میں پرانے تصورات سے آگے بڑھنا ہوگا، اور سکیورٹی خدشات سے نمٹنے کے لیے براہ راست بات چیت کا راستہ اپنانا ہوگا۔

سفیر شکیب نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی نوعیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک محض ہمسایہ ریاستیں نہیں بلکہ ان کی جغرافیائی، سماجی اور تاریخی روابط گہرے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’تجارت، ٹرانزٹ اور آبادیوں کی نقل و حرکت ہماری معیشتوں اور معاشروں کو جوڑتی ہے، جبکہ گزشتہ کئی دہائیوں کی جنگوں اور سکیورٹی صورتحال نے دونوں ممالک کے سکیورٹی حساب کتاب کو بھی گہرائی سے جوڑ دیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے سیاسی، سکیورٹی اور معاشی معاملات پاکستان پر اثرانداز ہوتے ہیں، جس طرح پاکستان کے حالات افغانستان کو متاثر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک جغرافیائی اور تزویراتی حقیقت ہے جسے کوئی بھی ملک تبدیل نہیں کر سکتا، تاہم اس باہمی انحصار کو بحران کے بجائے استحکام اور مشترکہ معاشی مفادات کے موقع میں بدلنے کا انتخاب دونوں ممالک کے پاس موجود ہے۔

سفیر نے زور دیا کہ موجودہ افغانستان کا جائزہ ماضی کی دہائیوں کے تناظر میں نہیں لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’آج کا افغانستان سرد جنگ کا افغانستان نہیں، نہ ہی یہ نوے کی دہائی کا افغانستان ہے، اور نہ ہی وہ افغانستان جو 2001 کے بعد غیر ملکی فوجی اور سیاسی مداخلت کے زیرِ اثر رہا۔‘ ان کے مطابق 2021 کے بعد کابل میں ایک نئی سیاسی حقیقت نے جنم لیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین سے ممکنہ سکیورٹی خطرات پر ظاہر کیے جانے والے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے سفیر شکیب نے کہا کہ افغانستان ان خدشات کو مکمل طور پر سمجھتا ہے، تاہم ان کا مؤقف تھا کہ سکیورٹی سے متعلق الزامات مخصوص، واضح اور ٹھوس معلومات، شناخت شدہ افراد، مخصوص نیٹ ورکس اور مخصوص واقعات سے جڑے ہونے چاہئیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کا خواہاں نہیں، لیکن ساتھ ہی یہ مؤقف بھی دیا کہ پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ سفیر کے بقول اگر افغانستان سے مخصوص خدشات پر تعاون کی توقع کی جاتی ہے، تو افغانستان بھی اپنے سکیورٹی خدشات پر پاکستان سے براہ راست بات چیت چاہتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خطاب میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ ہمسایہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ایک ریاست دوسری کے تمام تزویراتی فیصلوں کی توثیق کرے، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ دونوں ریاستیں ایک دوسرے کے جائز سکیورٹی اور قومی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھیں۔ سفیر نے کہا کہ کسی ایک ملک کے ساتھ افغانستان کے تعلقات کو کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ ایک آزاد ریاست بیک وقت مختلف ممالک سے تعلقات رکھ سکتی ہے، چاہے ان ممالک کے آپس میں تعلقات کیسے بھی ہوں۔

علاقائی بحران، پاکستان کی جانب سے راستوں کی بندش اور لاکھوں افراد کی واپسی کے باوجود افغانستان کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے سفیر نے دعویٰ کیا کہ افغانستان نے خطے میں اپنی سیاسی اور معاشی شراکت داریاں وسیع کی ہیں اور بیس سالہ غیر ملکی امداد پر انحصار کرنے والی معیشت کے بجائے اب ایک حقیقی اور پائیدار قومی معیشت کی بنیاد رکھی ہے۔

سفیر شکیب نے کہا کہ افغانستان اپنی خودمختاری اور داخلی معاملات پر بیرونی دباؤ، سفارتی روابط کی جگہ فوجی کارروائی کے استعمال، سکیورٹی مسائل کے حل کے لیے عام افغان شہریوں کو اجتماعی سزا دینے، اور تجارت و ٹرانزٹ کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کا خواہاں نہیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر نے کہا کہ نہ افغانستان اپنی جغرافیہ بدل سکتا ہے اور نہ پاکستان، اس لیے دونوں ممالک ہمیشہ ہمسایہ رہیں گے۔ ان کے بقول اصل سوال یہ نہیں کہ تعلقات رہیں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ دونوں ممالک اچھے ہمسائیوں کی طرح کیسے رہ سکتے ہیں۔ سفیر نے کہا کہ افغانستان اس کے لیے تیار ہے، نہ کمزوری کی پوزیشن سے، نہ انحصار سے اور نہ تصادم سے، بلکہ ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے جو اپنی تاریخ، جغرافیہ اور ماضی کے تجربات کو سمجھتے ہوئے اپنے عوام کی مرضی اور قومی مفادات پر مبنی مستقبل تعمیر کرنا چاہتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان