امریکی ڈرون کمپنی پاور یو ایس کے شریک بانی بریٹ ویلیکووچ نے بدھ کو روئٹرز کو بتایا کہ کمپنی نے پاکستان فوج کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس میں ڈرون سے متعلق ابتدائی آرڈر بھی شامل ہے۔
اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے بریٹ ویلیکووچ نے کہا: ’آج ہم نے ایک بہت اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت ہمیں پاور یو ایس کے نظام کے لیے ایک ابتدائی آرڈر بھی موصول ہوا ہے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ معاہدے میں کون سی ٹیکنالوجی شامل ہے تو ویلیکووچ نے سکیورٹی سے متعلق حساسیت کا حوالہ دیتے ہوئے تفصیلات بتانے سے انکار کیا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ یہ بغیر پائلٹ کے فضائی نظام کے زمرے میں آتی ہے۔ انہوں نے رازداری کا حوالہ دیتے ہوئے آرڈر کی مالیت بتانے سے بھی انکار کیا۔
مفاہمتی یادداشت اور ابتدائی آرڈر پر دستخط کیے جانے کی خبر اس سے قبل سامنے نہیں آئی تھی۔
فوجی اور صنعتی استعمال کے لیے فضائی اور بحری ڈرون فراہم کرنے والی کمپنی پاور یو ایس اوریئس گرین وے ہولڈنگز کے ساتھ انضمام کرنے والی ہے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو بیٹوں کی حمایت حاصل ہے۔
دونوں کمپنیوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ انضمام اکتوبر کے اوائل میں مکمل ہو جائے گا۔
امریکی ریگولیٹری دستاویزات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ، امریکن وینچرز نامی ایک سرمایہ کاری فنڈ کے ذریعے اوریئس میں حصص کے مالک ہیں۔
ریگولیٹری دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انضمام کے بعد امریکن وینچرز کے پاس مشترکہ کمپنی میں 9.9 فیصد بالواسطہ ملکیتی حصہ ہونے کی توقع ہے۔
پاکستان فوج نے بدھ کو کہا تھا کہ بریٹ ویلیکووچ کی قیادت میں پاور یو ایس کے ایک وفد نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی اور دفاعی خریداری، پیداوار اور طویل مدتی صلاحیت سازی پر تبادلہ خیال کیا، تاہم فوج کے بیان میں مفاہمتی یادداشت کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کاروباری اوقات کے علاوہ معاہدے پر تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
یہ معاہدہ صدر ٹرمپ کے دور میں واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کے دوران سامنے آیا ہے۔
ٹرمپ نے عوامی سطح پر پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کئی مرتبہ تعریف کی ہے جبکہ اسلام آباد نے امریکہ کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے متعدد معاشی، مالی اور دفاعی اقدامات کیے ہیں۔
پاور یو ایس کے بانی اور چیف ایگزیکٹیو اینڈریو فاکس نے کہا کہ پاکستان کا نجی دفاعی شعبہ ’ابھی ابھر رہا ہے لیکن اب بھی پختہ نہیں‘، جس سے امریکی کمپنیوں کے لیے تیزی سے آگے بڑھنے کی گنجائش موجود ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ویلیکووچ نے کہا کہ اس کا ’مقصد ایک مشترکہ ٹیکنالوجی تعلق قائم کرنا ہوگا، جس میں امریکہ کی بہترین ٹیکنالوجی کو پاکستان کی بہترین ٹیکنالوجی کے ساتھ ملایا جائے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پاور یو ایس پاکستان میں ممکنہ طور پر ٹیکنالوجی تیار کرنے کے طریقوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
دوسری جانب اینڈریو فاکس نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ کمپنی کی ترقی ٹرمپ کے بیٹوں کی شمولیت سے منسلک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معاہدے میرٹ کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں اور ٹرمپ کے بیٹوں کا ’کاروباری معاملات میں کوئی کردار نہیں‘۔
ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے ترجمان نے کہا کہ وہ بالواسطہ حصص رکھنے والے ایک غیر فعال سرمایہ کار ہیں۔
ترجمان نے کہا: ’ڈان کا پاور یو ایس کے انتظام یا آپریشنز میں کسی بھی قسم کا کوئی کردار نہیں اور امریکہ یا بیرون ملک معاہدوں کے حصول میں بھی ان کا قطعاً کوئی کردار نہیں۔
’انہیں اس معاہدے کے بارے میں پہلے سے کوئی علم نہیں تھا اور اس کی بات چیت، حصول یا تکمیل میں ان کا کسی بھی قسم کا کوئی کردار نہیں تھا۔‘
ایرک ٹرمپ کے ترجمان سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔