اسلام آباد پولیس نے جمعرات کی رات بتایا ہے کہ وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اڈیالہ جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ترجمان اسلام آباد پولیس تقی جواد نے انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار قرۃ العین شیرازی کو بتایا کہ ’ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو کس کیس میں گرفتار کیا گیا یہ معلومات چیک کرنے کے بعد بتا سکوں گا۔‘
دوسری جانب ایمان مزاری کی والدہ شیریں مزاری نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’دراصل انہیں اڈیالہ جیل کے اندر سے ہی لے جایا گیا، کیونکہ ہم ابھی انہیں رہا کرانے کے لیے وہاں نہیں گئے تھے، کیوں کہ کاغذی کارروائی مکمل نہیں ہوئی تھی۔‘
انہوں نے لکھا کہ ’ایک بار پھر، کسی شخص کو اس طرح جیل کے اندر سے لے جانا مکمل طور پر غیر قانونی ہے، لیکن ایمان اور ہادی کے معاملے میں کبھی بھی قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی نہیں کی گئی۔‘
They actually took them from inside Adiala because we had not yet gone to get them released as paper work was not complete! Once again totally illegal to take somebody from inside the jail in this manner but then there has never been due process observed for Imaan and Hadi. https://t.co/VaizYeTkyf
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) September 17, 2026
اس سے قبل سپریم کورٹ نے جمعرات کو وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے دونوں کی سزائیں معطل اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ہونے تک ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا تھا۔
عدالت نے دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے کے عوض ضمانت منظور کی تھی۔
انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار مہوش قماس خان کے مطابق جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جمعرات کو ایمان اور ہادی کی درخواستوں پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل فیصل صدیقی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی مختلف سماعتوں کی آرڈر شیٹس عدالت کے سامنے پیش کیں اور بتایا کہ سپریم کورٹ نے 12 مئی کو ہائی کورٹ کو سزا معطلی کی درخواستوں پر دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔
وکیل کے مطابق 12 مئی کے حکم کے باوجود معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس متعدد مرتبہ ملتوی ہوا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ سزا معطلی کی درخواست پر جلد سماعت کے لیے دائر درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے مسترد کردی تھی۔
فیصل صدیقی نے اپنے دلائل میں سابق جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ایک سابقہ ریمارک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول صرف جج یا وکیل کے انتقال پر ہی کیس ملتوی ہونا چاہیے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی بار بار التوا کا ذکر کرتے ہوئے فیصل صدیقی نے کہا کہ ہائی کورٹ میں جو کچھ ہوا وہ ان کے لیے ’سرپرائز‘ تھا، جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ ’آج کل سرپرائزز کا دور ہے۔‘
جسٹس نعیم اختر افغان نے ضمانت منظور کرتے ہوئے کہا کہ دونوں وکیل ہیں، ان کی عزت رکھ رہے ہیں، انھیں بھی کہہ دیں عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھیں، ایک وکیل میں اور ایک عام آدمی میں فرق ہوتا ہے۔۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے 24 جنوری، 2026 کو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے دونوں کو پیکا کی مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی۔ ان میں دفعہ 9 کے تحت پانچ سال، دفعہ 10 کے تحت 10 سال اور دفعہ 26-A کے تحت دو سال قید شامل تھی۔
ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے سات فروری، 2026 کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بعد ازاں ان کی سزا معطلی کی درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا، جس کے بعد ان درخواستوں پر باقاعدہ سماعت کا راستہ کھلا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
12 مئی کو سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو سزا معطلی کی درخواستوں پر دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔
تاہم 26 مئی کی مقررہ مدت گزرنے کے باوجود معاملہ زیرِ التوا رہا۔ بعد میں سپریم کورٹ میں دوبارہ جلد سماعت کی درخواستیں دائر کی گئیں۔
اگست میں سپریم کورٹ نے معاملے پر دوبارہ سماعت کرتے ہوئے 17 ستمبر کی تاریخ مقرر کی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں جسٹس محمد اعظم خان کے سامنے زیر سماعت ہیں۔
آٹھ ستمبر کو ہائی کورٹ میں درخواستوں پر سماعت ہوئی،تاہم نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے پراسیکیوٹر کی عدم دستیابی کے باعث کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوسکی اور سماعت 23 ستمبر تک ملتوی کردی گئی ۔
اس سے قبل جولائی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پراسیکیوشن کی جانب سے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اٹھائے گئے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے سزا معطلی کی درخواستیں قابل سماعت قرار دی تھیں۔