مکہ معاہدہ: سعودی عرب میں مشترکہ فوجی دستوں کی فوری تعیناتی کا فیصلہ

ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی کی صورت حال اور خطرات کا جائزہ لیا گیا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے پیر کو ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا کہ مملکت میں فوری طور پر مشترکہ فوجی دستے اور ضروری فوجی صلاحیتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

آج ریاض میں منعقد ہونے والے ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی کی صورت حال اور خطرات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق ’کمیٹی نے اجتماعی دفاع سے متعلق وعدوں پر عملی طور پر فوری عمل درآمد شروع کرنے اور مشترکہ فوجی دستے اور صلاحیتیں فراہم کرنے اور ان کی مملکت میں فوری تعیناتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو منظور شدہ انتظامات اور فریقین کی قومی قانون سازی کے مطابق ہوں گے۔ 

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

بیان میں بتایا گیا کہ ’پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو تین سال کی مدت کے لیے پہلے سیکریٹری جنرل مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

بیان کے مطابق ’فریقین نے ان کا خیرمقدم کیا، ان کے فرائض کی انجام دہی میں ہر کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اتحاد کو آگے بڑھانے اور اس کے مقاصد کے حصول میں ان کے کردار پر اعتماد کا اظہار کیا۔‘

بیان میں بتایا گیا کہ ’فریقین نے مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ مملکت کے شہروں اور شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے مسلسل حملوں کی بھی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور مملکت کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی حملے یا خطرے کو واضح طور پر مسترد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔‘

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور ترکی نے سعودی عرب کو ’درپیش خطرات اور حملوں کا مقابلہ کرنے اور اس کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے سعودی مسلح افواج کی جانب سے مظاہرہ کی جانے والی پیشہ ورانہ صلاحیت اور اعلیٰ درجے کی مہارت کو بھی سراہا۔

’کمیٹی نے اجلاس سے قبل ہونے والے سیاسی اور فوجی مشاورتی عمل کے نتائج کا جائزہ لیا اور اس کے سامنے پیش کی گئی سفارشات کی منظوری دی۔ 

’کمیٹی نے اس امر کی توثیق کی کہ مکہ دفاعی اتحاد اجتماعی دفاع اور خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ مؤقف کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔‘

اجلاس میں شرکت کے لیے نائب وزیر اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر آج ریاض پہنچے تھے۔

اجلاس میں سعودی اور ترک وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور چیفس آف جنرل سٹاف نے بھی شرکت کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اجلاس کے بعد پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ ’اجلاس میں مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ برادر ملک سعودی عرب کے خلاف جاری حملوں کی بھی شدید مذمت کی گئی۔

’تینوں ممالک نے خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔‘

بیان کے مطابق ’اجلاس کے دوران پاکستان نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

’پاکستان نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔‘

یمن میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ نے اتوار کو اعلان کیا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقے چھڑانے کے لیے بڑی فوجی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

یمن کے حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے جمعرات کو کہا تھا کہ حوثیوں نے سعودی شہر مدینہ میں بجلی کی ایک تقسیم گاہ پر حملہ کیا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اس وقت اعلان کیے گئے معاہدے میں ہر ملک کے فوجی وعدوں یا دفاعی ذمہ داریوں کی تفصیلات نہیں بتائی گئی تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا