پاکستان کی وفاقی کابینہ نے بدھ کو 10 روپے کے بینک نوٹ کی جگہ 10 روپے کا سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی ہے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزارت خزانہ کی سفارش پر نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کی بھی منظوری دی گئی۔
پاکستان میں ماضی میں بھی چھوٹی مالیت کے نوٹوں کو سکوں کی طرف منتقل کرنے کا رجحان رہا ہے، جیسے 1، 2 اور 5 روپے کے نوٹوں کے ساتھ ہوا۔
اس کے ساتھ باقی نوٹوں کو بھی اپ گریڈ کیا جا رہا ہے اور ان میں جدید سیکیورٹی فیچرز و مواد شامل کیے جائیں گے تاکہ جعلسازی روکی جا سکے
حکومت کے مطابق نئے نوٹوں میں جعلی کرنسی کی روک تھام کے لیے جدید سکیورٹی فیچرز شامل کیے جائیں گے جبکہ ایسے میٹریل کا استعمال کیا جائے گا جس سے نوٹوں کی عمر میں اضافہ ہو سکے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق کابینہ کو نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئے نوٹوں کے ڈیزائن کے لیے ملک بھر سے مصوروں اور ڈیزائنرز کی تجاویز حاصل کی گئیں جبکہ وزیراعظم کی قائم کردہ کابینہ کمیٹی نے تمام متعلقہ فریقوں سے تفصیلی مشاورت کی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اجلاس کو بتایا گیا کہ نئے کرنسی نوٹوں میں سکیورٹی فیچرز کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ جعلی نوٹوں کی روک تھام کی جا سکے۔
اس کے علاوہ نوٹوں کی تیاری میں جدید میٹریل استعمال کیا جائے گا، جس سے ان کی پائیداری اور استعمال کی مدت میں اضافہ ہوگا۔
وفاقی کابینہ نے اسی اجلاس میں 10 روپے کے بینک نوٹ کی جگہ 10 روپے کا سکہ متعارف کرانے کی بھی منظوری دی۔
تاہم وزیراعظم آفس کے جاری کردہ بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ 10 روپے کے نئے سکے کا اجرا کب ہوگا یا موجودہ 10 روپے کے نوٹ کب تک زیر گردش رہیں گے۔