طالبان کے نائب ترجمان ملا حمد اللہ فطرت نے تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ فائرنگ سے مرنے والے دو افراد اور 34 زخمیوں کو افغانستان روانہ کر دیا گیا جبکہ کمیٹی ایران اور پاکستان میں موجود دیگر شہریوں کو ڈھونڈ کر وطن منتقل کرنے میں مصروف ہے۔
ایرانی سرحد
کیا اغوا ہونے والے افراد زائرین تھے؟ اس سوال کے جواب میں پولیس اہلکار نے بتایا کہ ابھی تک اس امر کی تصدیق نہیں ہوئی کہ یہ لوگ زائرین ہی تھے۔