صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع کوہاٹ میں پولیس لائن میں نماز جمعہ کے وقت دھماکے میں حکام کے مطابق کم از کم 21 افراد جان سے گئے جبکہ زخمیوں کی تعداد 100 ہو گئی ہے۔
ایک محکمہ صحت کے اہلکار نے بتایا کہ مرنے والوں میں 15 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں 73 پولیس اہلکار اور 30 شہری ہیں۔
خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے جاری ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے بعد ایک خودکش حملہ آور نے اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب خود کو دھماکے سے اڑایا، جبکہ ایک دہشت گرد سنائپر کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا ہے۔
پولیس نے اپنے بیان میں ’فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری‘ رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
صوبائی ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے ابتدا میں انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ کم از کم 30 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ریسکیو 1122 کے مطابق زخمیوں کو جائے وقوعہ پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ایمبولینسز کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ امدادی کارروائیوں میں 20 ایمبولینسز، ریسکیو و ریکوری گاڑیوں سمیت 60 سے زائد اہلکار حصہ لے رہے ہیں، جبکہ کرک اور ہنگو سے بھی اضافی امدادی ٹیمیں کوہاٹ پہنچ گئی ہیں۔
پولیس کی ایک الگ اپڈیٹ میں دھماکے میں 5 پولیس اہلکاروں اور 11 شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع بھی دی گئی ہے، تاہم ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں اب تک 15 افراد کے شہید ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
دھماکے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز کے مطابق فائرنگ کی آواز بھی سنی گئی اور پولیس کی اضافی نفری بھی علاقے میں پہنچ گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کوہاٹ کے پرانا پولیس لائن میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔
انہوں نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے اور متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراعظم نے امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شدید مذمت کی اور پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔ انہوں نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے اور شدید زخمیوں کو ضرورت کے مطابق دیگر ہسپتالوں منتقل کرنے کی ہدایت کی۔
افغانستان سے متصل صوبے خیبرپختونخوا میں حالیہ دنوں میں عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا ہے، جہاں عسکریت پسند گروہوں نے سکیورٹی فورسز، پولیس اور شہریوں کو مسلسل نشانہ بنایا ہے، جن میں متعدد اموات ہوئی ہیں۔
صوبے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
وفاقی حکومت نے حال ہی میں خیبر پختونخوا کے چھ ریجنز کے 26 اضلاع کو عسکریت پسندی کے حوالے سے ’ہارڈ ایریا‘ قرار دیا تھا، جس میں کوہاٹ بھی شامل ہے۔