ایران سے تجارت پر تمام ’قابل اطلاق‘ پابندیوں پر عمل ہوگا: پاکستان

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان تمام قابل اطلاق پابندیوں کی بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے مطابق پابندی کرتا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

18 جنوری، 2024 کی اس تصویر میں ایک سکیورٹی اہلکار اسلام آباد میں واقع دفتر خارجہ کے باہر پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی)

پاکستان نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ تمام قابل اطلاق پابندیوں کی پابندی کرتا ہے اور آئندہ بھی بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے مطابق ان پر عمل جاری رکھے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ سجاد علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایران سے تجارت پر امریکی پابندیوں کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سابق ترجمان دفتر خارجہ سے منسوب یہ بیان کہ ’یکطرفہ امریکی پابندیوں کے باعث ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھی جائے گی‘ سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کا ایک ذمہ دار رکن ہے اور تمام قابل اطلاق پابندیوں کے نظام کی پابندی کرتا ہے اور کرتا رہے گا، جو بین الاقوامی اور ملکی قوانین کے مطابق ہیں۔

سجاد علی خان نے کہا کہ پاکستان کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی قانون پر مبنی عالمی نظام کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنی دیرینہ شراکت داری کو بہت اہمیت دیتا ہے اور واشنگٹن کے ساتھ طویل عرصے سے جاری سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی طریقہ کار اور قائم شدہ فریم ورک کی سختی سے پاسداری پر زور دیتا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں فریقوں پر زور دیتا رہے گا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، زیر التوا معاملات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کریں اور مفاہمت کی یادداشت کے تحت اپنے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔

ان کے مطابق پاکستان سمجھتا ہے کہ عالمی امن و سلامتی کے وسیع تر مفاد میں تنازع کو دوستانہ اور پرامن طریقے سے حل کرنے کا یہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے ایک ایوی ایشن عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکی پابندیوں کے تناظر میں ایرانی پروازوں یا بینکنگ کی بندش سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

ایوی ایشن عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے کیا جائے گا، جس پر عمل درآمد پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) کرے گی۔‘

ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ’ایران کی دو فضائی کمپنیاں پاکستان پروازیں چلاتی ہیں۔‘

ایرانی فضائی کمپنی ماہان ایئر کے نمائندے فرحان علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہیں ’اس معاملے کے بارے میں ہیڈ آفس کی جانب سے ابھی تک کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئی ہیں، اس لیے وہ اس وقت مزید کوئی معلومات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔‘

امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کو ’معاشی طور پر تنہا‘ کرنے کے لیے دنیا بھر میں سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد ممالک نے ایرانی ایئرلائنز اور بینکوں کے خلاف پابندیوں کا نفاذ شروع کر دیا ہے۔

’مذاکرات اور سفارت کاری ہی ایران تنازع کے حل کا ’واحد راستہ‘

ترجمان دفتر خارجہ سجاد علی خان نے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی مذاکرات، بات چیت اور سفارت کاری کا خیرمقدم کرتا ہے کیونکہ اس کے خیال میں یہی دونوں فریقوں کے درمیان تنازع کے حل کا واحد راستہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے عمل میں پاکستان نے کردار ادا کیا اور دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) طے کرانے میں کامیاب رہا۔

پاکستان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی حکام نے بدھ کو اشارہ دیا تھا کہ انہیں سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کی اُس حالیہ تجویز پر امریکہ کا باضابطہ جواب موصول ہو گیا ہے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محض چند دن قبل اعلانیہ طور پر مسترد کر دیا تھا۔

حکام نے یہ نہیں بتایا کہ اس جواب میں کیا ہے اور آیا ایرانی تجویز کو مسترد کیا گیا یا نہیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈہینڈنٹ اردو کی نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ میڈیا میں امریکہ اور ایران کے درمیان زیر بحث آنے والی سات شرائط ان نکات میں شامل ہیں جن پر دونوں فریق پہلے ہی (اسلام آباد) ایم او یو میں اتفاق کر چکے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ ایم او یو دونوں فریقوں کے درمیان تنازع کے حل کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔

28 فروری 2026 کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں بحران پیدا ہوا۔ بعد ازاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جس کا اثر عالمی معیشت پر پڑا اور مختلف ملکوں میں تیل کی قیمتیں اور مہنگائی بڑھ گئی۔

مسائل حل کرنے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا اور اسلام آباد مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے جنگ بندی کے لیے مفاہمتی یاداست پر دستخط بھی کیے لیکن سات ماہ میں دونوں ملکوں کے درمیان کوئی ٹھوس اور واضح معاہدہ نہیں ہو سکا۔

عباس عراقچی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہوں نے ایک ہفتے کے اندر آبنائے کھولنے کی تجویز پیش کی تھی بشرطیکہ امریکہ دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے اور ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں اٹھانے پر رضامند ہو جائے۔

ٹرمپ نے فوری طور پر اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیوں کہ وہ ’بہت بری طرح ہار رہا ہے‘ لیکن اس کی پیشکش ’قابل قبول نہیں ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان