پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر پیر کو تہران پہنچ گئے، جہاں وہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران اور مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے درمیان اہم مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
یہ مذاکرات ایران اور مکہ اتحاد کے رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہیں۔
سعودی اور ایرانی حکام نے بتایا کہ سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کی نمائندگی مارشل عاصم منیر جبکہ ترکی کی نمائندگی انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن کر رہے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب گذشتہ چند ہفتوں کے دوران یمن کے ایران نواز حوثیوں کے حملوں میں شدت آئی ہے اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان بیانات میں تلخی بڑھ گئی ہے۔
اگست میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
پاکستان کی فوج نے ایک بیان میں بتایا ’چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز (سی او اے ایس اور سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت سرکاری دورے پر ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں۔‘
ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی پیر کی سہ پہر عاصم منیر کی تہران آمد کی تصدیق کی۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی نے اس سے قبل ان مذاکرات کی تصدیق کی تھی۔
کنی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’تہران میں چار ممالک کی یہ ملاقات یقینی طور پر مقامی سطح پر علاقائی سلامتی کا نظام تشکیل دینے میں ایک مؤثر اور اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔‘
انہوں نے ملاقات کی تاریخ نہیں بتائی تاہم کہا کہ اس کی تجویز گذشتہ ہفتے پاکستان فوج کے سربراہ عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دوران پیش کی گئی تھی۔
فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر اچانک حملوں کی ایک لہر شروع کیے جانے کے بعد سے مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں ہے۔
پاکستان میں ایران کے سابق سفیر جواد ظریف نے ایکس پر لکھا ’ہمیں آج کے اجلاس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغربی ایشیا کے سکیورٹی نیٹ ورک (واسل) کی بنیاد رکھنی چاہیے۔‘
انہوں نے کہا ’واسل ایک جامع علاقائی نیٹ ورک ہے، جس کی بنیاد عدم جارحیت، باہمی اعتماد کے فروغ اور مشترکہ خوشحالی پر ہے۔‘
اپریل میں ہونے والی جنگ بندی سے شدید بمباری کے ابتدائی مرحلے کا خاتمہ ہوا، تاہم دونوں فریق آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بدستور کوشاں ہیں۔
اس آبنائے سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔
ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے اور ان بحری جہازوں کو باقاعدگی سے نشانہ بنایا ہے جو اس کی اجازت کے بغیر وہاں سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے جواب میں اپنی بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔
اس کے بعد جنگ پورے خطے میں پھیل گئی اور یمن میں سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان لڑائی بھی اس میں شامل ہو گئی ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے وزرائے دفاع نے رواں ماہ کے اوائل میں ریاض میں ہنگامی اجلاس کیا، جس میں سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی ’تیز رفتار تعیناتی‘ یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
انہوں نے ملاقات کی تاریخ نہیں بتائی تاہم کہا کہ اس کی تجویز گذشتہ ہفتے پاکستان فوج کے سربراہ عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دوران پیش کی گئی تھی۔
فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر اچانک حملوں کی ایک لہر شروع کیے جانے کے بعد سے مشرق وسطیٰ جنگ کی لپیٹ میں ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان میں ایران کے سابق سفیر جواد ظریف نے ایکس پر لکھا ’ہمیں آج کے اجلاس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغربی ایشیا کے سکیورٹی نیٹ ورک (واسل) کی بنیاد رکھنی چاہیے۔‘
انہوں نے کہا ’واسل ایک جامع علاقائی نیٹ ورک ہے، جس کی بنیاد عدم جارحیت، باہمی اعتماد کے فروغ اور مشترکہ خوشحالی پر ہے۔‘
اپریل میں ہونے والی جنگ بندی سے شدید بمباری کے ابتدائی مرحلے کا خاتمہ ہوا، تاہم دونوں فریق آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بدستور کوشاں ہیں۔
اس آبنائے سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی۔
ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے اور ان بحری جہازوں کو باقاعدگی سے نشانہ بنایا ہے جو اس کی اجازت کے بغیر وہاں سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے جواب میں اپنی بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے۔
اس کے بعد جنگ پورے خطے میں پھیل گئی اور یمن میں سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان لڑائی بھی اس میں شامل ہو گئی ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے وزرائے دفاع نے رواں ماہ کے اوائل میں ریاض میں ہنگامی اجلاس کیا، جس میں سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی ’تیز رفتار تعیناتی‘ یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔