سعودی عرب اور افغانستان نے ہفتے کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایک مسجد پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس میں 16 پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 23 افراد جان سے چلے گئے۔
سعودی وزارت خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں حملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
#Statement | The Foreign Ministry expresses the Kingdom of Saudi Arabia’s strong condemnation and denunciation of the terrorist attack that targeted a mosque in the Khyber Pakhtunkhwa Province in northwestern Islamic Republic of Pakistan, which resulted in a number of deaths and… pic.twitter.com/VAl7Sl1dgn
— Foreign Ministry (@KSAmofaEN) September 19, 2026
افغانستان کی وزارت خارجہ نے بھی ہفتے کو خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں نمازِ جمعہ کے دوران مسجد پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے اپنے بیان میں کہا کہ حملے کے نتیجے میں متعدد افراد جان سے گئے اور زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کو ناقابل جواز اور قابل مذمت سمجھتی ہے۔ ترجمان نے واقعے میں جان سے گئے افراد کے اہل خانہ سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار بھی کیا۔
گذشتہ روز نماز جمعہ کے وقت کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد میں خودکش حملے کے بعد حملہ آور پولیس لائنز میں داخل ہو گئے، جن کے خلاف سکیورٹی فورسز نے آپریشن کا آغاز کیا۔
پولیس کا یہ کمپاؤنڈ ضلعی سطح کے پولیس ہیڈ کوارٹر کے طور پر کام کرتا ہے، جہاں کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، سپیشل برانچ اور پولیس کے کئی دیگر یونٹس کے اہم دفاتر واقع ہیں۔
پولیس نے ہفتے کو بتایا کہ حملہ آوروں کے خلاف کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، جس میں آٹھ عسکریت پسند مارے گئے جبکہ 16 پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 23 افراد جان سے گئے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
ہفتے کو پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ ایلیٹ فورس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور سکیورٹی فورسز نے رات بھر جاری رہنے والی کارروائی کے بعد پولیس لائنز کی عمارت کے اہم حصے کلیئر کر لیے۔
پولیس کے مطابق ’کارروائی کے دوران مجموعی طور پر آٹھ دہشت گرد جان سے گئے۔‘
پشاور سینٹرل پولیس آفس کے ترجمان عبد السلام خالد نے انڈپینڈنٹ اردو کی نمائندہ لائبہ حُسن کو بتایا کہ کوہاٹ حملے میں اب تک 16 پولیس اہلکاروں سمیت 23 افراد جان سے گئے جبکہ 130 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
جمعے کی رات گئے کوہاٹ کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ واقعے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں بڑی اکثریت پولیس اہلکاروں کی ہے اور کئی کی حالت تشویش ناک ہے۔
حملے کی ذمہ داری حافظ گل بہادر سے منسلک دھڑے اور مقامی عسکریت پسند گروپ اتحاد المجاہدین پاکستان نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاکستان نے خیبر پختونخوا اور جنوبی سرحدی صوبے بلوچستان میں حملوں میں اضافے کی وجہ افغانستان سے ابھرنے والی عسکریت پسندی کو قرار دیا ہے جبکہ طالبان حکومت افغان شمولیت کی تردید کرتی ہے۔
ان الزامات نے پڑوسی ممالک کے درمیان شدید کشیدگی اور مسلح تصادم کو جنم دیا ہے اور پاکستان نے جان لیوا فضائی حملے کیے ہیں جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان میں افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
کابل میں طالبان حکومت اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جون میں مشرقی افغانستان پر پاکستان کے تازہ ترین حملوں میں درجنوں عام شہری جان سے گئے۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کی شام اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حملے کی رپورٹ طلب کی تھی۔
صدر آصف علی زرداری نے بھی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا، اور دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام دیا۔
انہوں نے ٹی ٹی پی گروپ کے لیے پاکستانی قیادت کی جانب سے استعمال ہونے والی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ’فتنہ الخوارج اور غیر ملکی پشت پناہی سے کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سکیورٹی کے لیے ناگزیر ہے۔‘