عبدالعزیز گُرجی گذشتہ 60 برسوں سے بےکار لکڑی کے ٹکڑوں کو نفیس اور دیدہ زیب فن پاروں میں تبدیل کر رہے ہیں۔
قدیم تہذیب
ان تصاویر کو بنانے والے آرٹسٹ رحمت اللہ میربحر نے کہا ہے کہ ’موہن جو دڑو پر سندھی زبان میں موجود مواد اگر انٹرنیٹ پر ہوتا تو یہ تصاویر 100 فیصد اصل شہر کی عکاسی کرتیں۔‘