بلتستان کے فنکار غلام مہدی کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں لوگ شادیوں اور دیگر تقریبات میں خاص طور پر دھنیں سننے کے لیے دور دور سے آتے تھے، لیکن اب یہ محض شور شرابا ہے۔
ساز
یہ آلہ کبھی پاکستان بھر میں موسیقی محفلوں کا لازمی جزو ہوا کرتا تھا جو اب آہستہ آہستہ دم توڑتا جا رہا ہے۔