’فائیو آئیز‘ کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

دنیا کے پانچ انگریزی بولنے والے ملکوں پر مشتمل ’دنیا کا سب سے خصوصی انٹیلی جنس شیئرنگ کلب،‘ جو اس وقت عالمی میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔

23 جنوری، 2018 کو فرانس کے شہر للی میں ہونے والے سائبر سکیورٹی فورم میں شریک ایک فوجی اہلکار(اے ایف پی)

حالیہ دنوں میں کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل اور اس میں انڈیا کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی خبروں کے پیچھے ایک تنظیم ’فائیو آئیز‘ کا ذکر اکثر سننے میں آتا ہے۔

کینیڈا میں امریکی سفیر ڈیوڈ کوہن نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ ’فائیو آئیز کے شراکت کاروں کے درمیان خفیہ معلومات کے تبادلے‘ کے نتیجے میں کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کو اس قتل میں انڈیا کے ملوث ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔

فائیو آئیز کو ’دنیا کا سب سے خصوصی انٹیلی جنس شیئرنگ کلب‘ اور ’دنیا کی سب سے قدیم انٹیلی جنس شیئرنگ پارٹنرشپ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

شروع شروع میں اس ادارے کے تحت جاری ہونے والی دستاویزات پر SECRET—AUS/CAN/NZ/UK/US EYES ONLY لکھا ہوتا تھا، جس کی وجہ سے اسے فائیو آئیز کہا جانے لگا۔

فائیو آئیز میں کون سے ملک شامل ہیں؟

یوکے ڈیفنس جرنل کے مطابق فائیو آئیز میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں اور یہ ’دنیا کا سب سے مکمل اور جامع انٹیلی جنس اتحاد ہے۔‘

صرف یہی ملک کیوں؟ اس بارے میں کینیڈا کے سرکاری ادارے ’پبلک سیفٹی کینیڈا‘ نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے، ’فائیو آئیز معاہدہ دیگر معاہدوں سے مختلف ہے کیونکہ اس میں شامل فریقین متنوع معاشرے ہیں، جو قانون کی حکمرانی اور مضبوط انسانی حقوق کے تحت چل رہے ہیں اور ایک مشترکہ زبان سے جڑے ہوئے ہیں۔

’یہ خصوصیات شراکت داروں کو اپنے مشترکہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا اشتراک کرنے میں مدد دیتی ہیں۔‘

سکیورٹی امور کے ماہر اور مصنف سید محمد علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اس وقت یعنی 2023 میں ’فائیو آئیز‘ انٹیلی جنس شیئرنگ کا ایک بہت جامع اور ہمہ جہت نظام ہے، جو امن، بحران اور جنگ، یعنی تینوں حالتوں میں بہت اہم معلومات کا آپس میں تبادلہ کرتا ہے،‘ اور یہ معلومات ان پانچ ملکوں کو ’سفارتی میدان میں مختلف معاملات پر ایک مشترکہ موقف یا لائحۂ مرتب کرنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔‘

دوسری عالمی جنگ کا نتیجہ

یوکے ڈیفنس جرنل نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ’یہ اتحاد دوسری عالمی جنگ کے تناظر میں قائم کیا گیا تھا۔ دوسری عالمی جنگ میں برطانیہ اور امریکہ کے درمیان بڑے پیمانے پر انٹیلی جنس کا تبادلہ ہوا تھا جس کی وجہ سے جرمنوں کے خفیہ کوڈ کو پڑھ لیا گیا تھا جو ہٹلر کی شکست کی اہم وجوہات میں سے ایک تھا۔‘

’جنگ کے فوراً بعد پانچ مارچ 1946 کو امریکہ اور برطانیہ کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کا معاہدہ ہوا جسے UKUSA کہا جاتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ابتدائی طور پر صرف برطانیہ اور امریکہ کا سمجھوتہ ہوا تھا، مگر 1948 میں اس میں کینیڈا اور 1956 میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو بھی شامل کر لیا گیا۔‘

اس کے بعد سے اب تک یہ عالمی رسائی رکھنے والا سب سے بڑا بین الاقوامی انٹیلی جنس اتحاد بن گیا ہے۔

آسٹریلوی وزیرِ اعظم کو بھی علم نہیں تھا

اس کے بارے میں گذشتہ برسوں میں میڈیا میں بہت کچھ آیا ہے مگر فائیو آئیز کا طریقۂ کار ابھی تک پردۂ اخفا میں ہے۔

جرنل آف کولڈ وار سٹڈیز میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق کہ ’اس ادارے کے قیام کے سمجھوتے کو ’انگریزی بولنے والی دنیا کی سب سے خفیہ دستاویز‘ سمجھا جاتا ہے جس کی سخت رازداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1973 اس میں وقت کے آسٹریلوی وزیرِ اعظم گف وٹلیم کے علم میں بھی نہیں تھا۔

ادارے کے قیام کے 64 سال بعد کہیں جا کر جون 2010 میںUKUSA معاہدے کا مکمل متن پہلی بار سامنے آیا اور اسے پہلی بار اسے سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا۔

امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے دوران اس اتحاد نے اہم کردار ادا کیا۔

یوکے ڈیفنس جرنل کے لکھا ہے کہ ’اس دوران برطانیہ کے فائیو آئیز شمالی بحرِ اوقیانوس میں بیلیسٹک میزائلوں سے لیس سوویت آبدوزوں کا سراغ لگاتا تھا جب کہ امریکہ کے لیے یہ اتحاد سابق برطانوی سلطنت، خاص طور مشرقِ وسطیٰ میں قائم انٹیلی جنس چوکیوں سے حاصل کردہ معلومات امریکہ کو فراہم کرتا تھا۔‘

علاقوں کی تقسیم

یوکے ڈیفنس جرنل کے مطابق معاہدے کے مطابق ہر رکن ملک دنیا کے مخصوص جغرافیائی خطوں سے معلومات اکٹھی کرے گا۔ جس کی تفصیل درجِ ذیل ہے:

  • برطانیہ: یورپ، مغربی روس، مشرقِ وسطیٰ اور ہانگ کانگ
  • امریکہ: مشرقِ وسطیٰ، چین، اور مشرقی ایشیا
  • نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا: جنوبی بحرالکاہل اور جنوبی ایشیا
  •  کینیڈا: روس اور چین کے اندر سے، لاطینی امریکہ

اس تقسیم کے باوجود ان ملکوں کے اہلکار مل کر کام کرتے ہیں اور حتمی رپورٹ میں ایک سے زیادہ ملکوں کی حاصل کردہ انٹیلی جنس شامل ہوتی ہے۔

فائیو آئیز اور پاکستانی کرکٹ

2021 میں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے اچانک ہی پاکستان کا دورہ ملتوی کر دیا تھا جس کی وجہ سکیورٹی خدشات بتائے گئے تھے۔

نیوزی لینڈ کرکٹ کے سربراہ ڈیوڈ وائٹ کے مطابق ’اس خطرے کی بنیادی نوعیت کے بارے میں تو پی سی بی کو آگاہ کر دیا گیا تھا لیکن اس کی مخصوص تفصیلات نہیں بتائی جا سکتی تھیں، نہ بتائی جائیں گی۔۔۔ نہ ہی نجی حیثیت میں اور نہ ہی عوامی طور پر۔‘

ڈیوڈ وائٹ نے تو نہیں بتایا مگر پاکستانی کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹیو وسیم خان نے ستمبر 2021 میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’نیوزی لینڈ کی حکومت نے دورہ پاکستان انٹیلی جنس گروپ ’فائیو آئیز‘ کی جانب سے ان کی ٹیم کو ’براہ راست‘ خطرے کا الرٹ موصول ہونے پر ختم کیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی کنسلٹنٹ ریگ ڈکیسن نے فون کر کے نیوزی لینڈ ٹیم کو لاحق خطرے کا بتایا تھا۔‘

وسیم خان نے کہا کہ ’ڈکیسن نے ’فائیو آئیز سے ملنے والی معلومات شیئر کیں اور نیوزی لینڈ کے ڈپٹی وزیراعظم کو بتایا گیا کہ یہ بہت سنگین ہے اور فوری طور پر حل کرنا ہے۔‘

دوسری جانب اس وقت کے پاکستانی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسے ’ایبسلوٹلی ناٹ‘  کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اس کی وجہ پاکستان کی جانب سے امریکہ کو ہوائی اڈے نہ دینا ہے۔‘

’چاہے پانچ آنکھیں ہوں یا دس‘

نومبر 2020 میں چین نے خبردار کیا تھا کہ اگر ’چین کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا جائے گا۔‘

چین کی وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کی پانچ آنکھیں ہوں یا دس۔‘

یہ ادارہ معلومات کیسے حاصل کرتا ہے؟

سید محمد علی نے بتایا کہ ’فائیو آئیز ہیومن بیسڈ انٹیلی جنس (انسانوں کے ذریعے حاصل کردہ خفیہ معلومات) کے علاوہ بڑی حد الیکٹرانک انٹیلی جنس پر انحصار کرتا ہے۔

’امریکہ کا الیکٹرانک انٹیلی جنس کا نظام بےحد وسیع ہے، جس میں خلا میں قائم نظام بھی شامل ہیں، سائبر سسٹم بھی ہے، ہوا میں، زمین پر، سمندر میں ہر جگہ یہ 24/7 کام کرتے ہیں جو ریئل ٹائم میں شیئر کی جاتی ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی کے آپریشن دنیا میں جہاں بھی چل رہے ہوتے ہیں اس حوالے سے ٹارگٹس کی نقل و حرکت آپس میں شیئر کی جاتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ ادارہ بحری اور ہوائی ٹریفک، میزائلوں کے ٹیسٹ، مصنوعی سیاروں کی تیاری اور فضائیہ سے متعلق فوجی سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے۔‘

نائن الیون حملوں کے بعد فائیو آئیز کو مزید توسیع دی گئی۔ سابق برطانوی وزیر کلیئر شارٹ نے فروری 2004 میں کہا تھا کہ ’برطانوی جاسوسوں نے اس وقت کے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے دفتر میں جاسوسی آلات لگائے تھے۔‘

2013 میں امریکی ادارے این ایس اے کے اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی افشا کردہ دستاویزات سے فائیو آئیز کے تحت کی چلائے جانے والے متعدد پروگراموں کا پتہ چلا تھا۔

کولڈ وار جرنل کے مضمون کے مطابق ’اگرچہ رکن ملک انسانی جاسوسی، خفیہ کارروائیوں، ڈیٹا ہینڈلنگ وغیرہ پر بھی انحصار کرتے ہیں، مگر اس کا بنیادی نکتہ سگنل انٹیلی جنس ہے۔ سگنل انٹیلی جنس سے مراد وہ آپریشن ہیں جو الیکٹرمیگنیٹنک ٹرانسمشن کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔‘

اس کے علاوہ دہشت گرد تنظیمیں اور ہتھیاروں کا کاروبار بھی اس کے دائرۂ عمل میں آتا ہے۔ حالیہ برسوں میں سائبر سکیورٹی کے خدشات کے پیشِ نظر اس ادارے کی ذمہ داریوں میں سائبر سکیورٹی کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا