پاکستان کی اقوام متحدہ کونسل میں اسرائیل مخالف تجویز کو امریکہ نے کمزور کیا: روئٹرز

کونسل، جس کا مشن دنیا بھر میں انسانی حقوق کو فروغ دینا اور ان کا تحفظ کرنا ہے، نے پاکستان کی تجویز کا جو ورژن بدھ کو منظور کیا اس میں آئی آئی آئی ایم کی تشکیل شامل نہیں تھی۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد چار اپریل 2025 کو سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے (ریڈیو پاکستان)

سات سفارتکاروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا ہفتے کو کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے علیحدگی کا اعلان تو دو ماہ قبل کر دیا تھا لیکن امریکہ اب بھی کونسل کے کام پر اثر انداز ہو رہا ہے، جس کا شکار پاکستان کی حالیہ اسرائیل مخالف تجویز بھی ہوئی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ امریکہ نے 47 ممبران پر مشتمل چھ ہفتے پرمحیط سیشن میں تو غیر حاضری رکھی تاہم اس کے دباؤ اور سفارت کاری کا اثر معاملات پر پڑا۔

ذرائع کے مطابق امریکہ نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ایک سخت تجویز کو کمزور کرنے پر توجہ مرکوز کر دی، جس میں اسرائیل کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کارروائیوں کی تحقیقات کے لیے اقوامِ متحدہ کا ایک خودمختار، غیرجانبدار اور آزاد میکانزم (IIIM) بنانے کا کہا گیا تھا۔

فلسطینی علاقوں کے حوالے سے کونسل نے ایک انکوائری کمیشن پہلے سے قائم کر رکھا ہے لیکن پاکستان کی تجویز کے تحت اضافی اختیارات کے ساتھ بین الاقوامی عدالتوں میں ممکنہ استعمال کے لیے شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ اضافی تحقیقات کا آغاز ہو سکتا تھا۔

کونسل، جس کا مشن دنیا بھر میں انسانی حقوق کو فروغ دینا اور ان کا تحفظ کرنا ہے، نے پاکستان کی تجویز کا جو ورژن بدھ کو منظور کیا اس میں آئی آئی آئی ایم کی تشکیل شامل نہیں تھی۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

امریکی کانگریس کے دو سربراہان کی جانب سے 31 مارچ کو بھیجی گئی ایک خط میں ایچ آر سی کے رکن ممالک کو خبردار کیا گیا کہ ’اگر انہوں نے اسرائیل کے خلاف مخصوص میکانزم کی حمایت کی تو انہیں بھی وہی نتائج بھگتنا ہوں گے جو آئی سی سی کو اسرائیلی وزیرِ اعظم کے وارنٹ پر بھگتنا پڑے۔‘

یہ خط امریکی ایوان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین برائن مسٹ اور سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات کے چیئرمین جیمز آر رِش کی طرف سے بھیجا گیا۔

پاکستان کی تجویز کے حتمی ورژن میں مستقبل میں آئی آئی آئی ایم پر غور کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی دعوت کا حوالہ دیا گیا ہے۔

جنیوا میں مقیم دو سفارت کاروں نے کہا کہ انہیں الفاظ کی تبدیلی سے قبل امریکی سفارت کاروں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے تھے کہ وہ نئی تحقیقات کی مخالفت کریں۔

ایک نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’وہ (امریکی سفارت کار) کہہ رہے تھے کہ اس معاملے سے دور جاؤ۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روئٹرز یہ تصدیق نہیں کرسکا کہ آیا یہ نظرثانی امریکی کارروائیوں کا براہ راست نتیجہ تھی۔

پاکستانی مشن نے روئٹرز کو اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ چار فروری کو ٹرمپ کے دستخط کردہ ایگزیکٹو آرڈر کی تعمیل کر رہا ہے جس میں امریکہ کونسل میں شمولیت سے دستبردار ہوا۔

انہوں نے مزید کہا: ’بطورپالیسی ہم نجی سفارتی بات چیت پر تبصرہ نہیں کرتے ہیں۔‘

انسانی حقوق کے ایک ماہر فل لنچ نے کہا کہ بین الاقوامی ادارے اب ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں، جہاں ’قانون کی جگہ بے دریغ طاقت‘ لی سکتی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کونسل کے رکن نہیں ہیں لیکن، اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کی طرح غیر رسمی مبصر کی حیثیت رکھتے ہیں اور کونسل کے اجلاس چیمبر میں ایک نشست بھی ملی ہوئی ہے۔

امریکہ کبھی اقوام متحدہ کے حقوق کے نظام کا سب سے بڑا عطیہ دہندہ تھا، لیکن ٹرمپ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ ’اچھی طرح سے کام نہیں کر رہا ہے‘ اور ان کی انتظامیہ نے امدادی کٹوتیوں بھی شروع کر دی ہیں۔

پاکستان کا غزہ پر بیان

چار اپریل کو سلامتی کونسل سے خطاب میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اسرائیل عالمی قراردادوں، فائر بندی کے معاہدے اور قوانین کی خلاف ورزی کرتا آ رہا ہے اور اب وقت ہے کہ سلامتی کونسل افسوس کی بجائے فوری اقدام لے۔

انہوں نے کہا کہ ’اسرائیل جس بے خوفی سے سلامتی کونسل کی قراردادوں، جنگ بندی کے معاہدے، بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور اور جنیوا کنونشنز سمیت تمام تہذیبی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اس سے فلسطینی عوام یہ سوال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ آیا سلامتی کونسل کبھی کوئی موثر اقدام کرے گی یا صرف ان کے مصائب پر افسوس کا اظہار ہی کرتی رہے گی۔‘

انہوں نے اس موضوع پر مزید کہا کہ ’جو کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے وہ انسانیت کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ یہ ناقابل قبول ہے۔ سلامتی کونسل کو فوری اقدام کرنا ہوگا۔ ہم ایسے ادارے کا حصہ نہیں بن سکتے جو محض تماشائی بنا رہے اور کچھ نہ کرے۔‘

پاکستانی کے مستقل مندوب نے کہا کہ گذشتہ ماہ فائر بندہ معاہدہ توڑنے کے بعد اسرائیل نے مزید 1100 فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے، جس سے 2023 کے اکتوبر سے 2025 کے جنوری تک اموات کی تعداد 50,000 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں 17,000 بچے شامل ہیں۔

انہوں نے پاکستان کی جانب سے فوری اقدامات کا مطالبہ دہرایا۔

ان اقدامات میں مطالبہ کیا گیا کہ جنگ بندی اور 19 جنوری کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد، اور اس کا دائرہ مغربی کنارے تک بڑھایا جائے۔ اسرائیل کی غیر قانونی ناکہ بندی فوری طور پر ختم کی جائے تاکہ انسانی امداد کی آزادانہ ترسیل ممکن ہو۔ اقوام متحدہ کے عملے اور امدادی کارکنان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے، اور خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کی سربراہی میں ڈیش بورڈ قائم کیا جائے۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب نے نشاندہی کی کہ بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا جنگی جرم ہے۔

انہوں نے دہرایا کہ پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کرتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا