اسرائیل کا غزہ میں خوراک کو ہتھیار کے طور استعمال اجتماعی سزا ہے: اقوام متحدہ

انروا کے سربراہ نے نشاندہی کی کہ اسرائیل نے غزہ پر ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے سخت ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس میں خوراک، ادویات اور ایندھن سمیت ضروری اشیا کے داخلے کو روک دیا گیا ہے۔

تین اپریل 2025 کو وسطی غزہ میں نوصیرات پناہ گزین کیمپ میں مفت خوراک کی تقسیم کے مقام پر کھانا حاصل کرنے کے لیے بچے اور بڑے قطار میں کھڑے ہیں۔ غزہ میں کام کرنے والے بین الاقوامی خیراتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں 24 لاکھ افراد مزید قلت برداشت نہیں کر سکتے (ایاد بابا / اے ایف پی)

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں خوراک اور انسانی امداد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے پر تنقید کی ہے۔

ایکس پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں، لازارینی نے غزہ کی سنگین صورتحال پر غور کیا، جہاں اسرائیلی قابض افواج 18 ماہ سے نسل کشی کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں بھوک اور مایوسی پھیلی ہوئی ہے، کیونکہ اسرائیل خوراک اور انسانی امداد کو جنگی آلات کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

لازارینی نے نشاندہی کی کہ اسرائیل نے غزہ پر ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے سخت ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس میں خوراک، ادویات اور ایندھن سمیت ضروری اشیا کے داخلے کو روک دیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اسے شہری آبادی کے خلاف اجتماعی سزا کی ایک شکل قرار دیا۔

لازارینی نے کہا کہ ’[غزہ کے] لوگ تھک چکے ہیں کیونکہ وہ زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے میں بند ہیں۔" "امداد کو اندر جانے کی اجازت دی جانی چاہیے اور محاصرہ اٹھا لیا جانا چاہیے۔‘

مارچ 2025 کے اوائل میں غزہ کی صورتحال ڈرامائی طور پر خراب ہوئی، جب اسرائیلی قبضے نے غزہ کی پٹی میں گزرنے والے راستے بند کر دیے، ضروری انسانی، امدادی اور طبی سامان کا داخلہ روک دیا۔ اس سے خطے میں انسانی حالات میں غیر معمولی بگاڑ پیدا ہوا ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا