پاکستان نے جمعے کو کہا کہ گذشتہ سال سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے دوطرفہ دفاعی معاہدے کے تحت مزید فوجی اہلکار سعودی عرب میں تعینات کیے گئے ہیں جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران مستقبل میں کسی بھی اضافی فوجی تعیناتی کا فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی پر مشتمل سہ فریقی اتحاد کرے گا۔
یہ اعلان پانچ اکتوبر کو ریاض میں اتحاد کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آیا جس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور فوجی سربراہان نے مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں پر عمل درآمد تیز کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
پاکستان اور سعودی عرب نے گذشتہ سال دوطرفہ سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے (ایس ایم ڈی اے) پر دستخط کیے تھے جبکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا تھا۔
اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب ایران کی حمایت یافتہ یمنی حوثی تحریک کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آئی ہے۔
ان حملوں میں چھ اور سات اکتوبر کو ریاض اور ابہا کے ہوائی اڈوں پر کیے گئے حملے بھی شامل ہیں، جن میں اطلاعات کے مطابق تین افراد جان سے گئے اور 36 دیگر زخمی ہوئے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں جمعے کو کہا ’1982 سے پاکستان کی مسلح افواج کسی نہ کسی صورت میں سعودی عرب میں موجود رہی ہیں۔
’گذشتہ سال پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ دفاعی معاہدے، ایس ایم ڈی اے، پر دستخط کے بعد بھی کچھ فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’اب حال ہی میں مکہ اتحاد کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی (ایس پی ڈی سی) کے اجلاس میں تینوں ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ ضرورت کے مطابق مناسب فوجی نقل و حرکت اور تعیناتی کی جائے گی۔‘
سجاد حیدر خان کے مطابق ریاض میں قائم اتحاد کا ہیڈکوارٹر سکیورٹی خطرات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گا کہ مزید کتنے فوجی اہلکار، کب اور کہاں تعینات کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا ’اتحاد کی تنظیم اور اس کا ہیڈکوارٹر فیصلہ کرے گا کہ کتنی نفری، کب اور کہاں تعینات کرنے کی ضرورت ہے اور اتحاد میں شامل ممالک اس کے مطابق ضروری وسائل اور نفری فراہم کریں گے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی فوجی نفری اور وسائل پہلے ہی بڑی تعداد میں ریاض میں موجود ہیں جبکہ مزید تعیناتیوں کے فیصلے مشترکہ طور پر کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا ’مشترکہ اعلامیے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک ممکنہ جارحیت کو روکنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔‘
سجاد حیدر خان کے مطابق ’پاکستان کی جانب سے پہلے ہی ریاض میں قابل ذکر تعداد میں فوجی اہلکار اور وسائل موجود ہیں۔ اب یہ اتحاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطرات کا جائزہ لے اور اپنے مینڈیٹ کے مطابق کارروائی کرے۔‘
ترجمان نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کو اپنی سرزمین اور اہم بنیادی تنصیبات کے دفاع کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا ’میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی رکھتا ہے۔
’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہمارا عزم مضبوط اور غیر متزلزل ہے۔
’ہم سعودی عرب کے اس جائز حق کی دوبارہ توثیق کرتے ہیں کہ وہ اپنے عوام کا دفاع کرے اور اپنی اہم بنیادی تنصیبات کو تحفظ فراہم کرے۔‘
’دفاعی اتحاد‘
سجاد حیدر خان نے زور دیا کہ تینوں ممالک کے درمیان قائم یہ اتحاد دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کے تحت پاکستانی افواج کی جانب سے سرحد پار فوجی کارروائیوں کا تصور شامل نہیں۔
انہوں نے کہا ’مکہ اتحاد ایک دفاعی تنظیم ہے۔ یہ اتحاد جارحیت سے دفاع کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس لیے یہ افواج سرحد پار کرکے دوسری جانب نہیں جائیں گی۔‘
ترجمان نے اتحاد کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائیوں کے بارے میں بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک یا افواج کے بارے میں قیاس آرائی کرنا مناسب نہیں ہوگا جو کسی ممکنہ کارروائی میں شامل ہوسکتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا کہ اتحاد سے متعلق فیصلے پاکستانی حکومت کی شمولیت کے بغیر کیے گئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ آصف اس انتظام کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا ’یہ دونوں سیاست دان ہیں اور پارلیمان کے ساتھ ساتھ وفاقی کابینہ کا بھی حصہ ہیں لہذا حکومت ان فیصلوں میں مکمل طور پر شامل ہے۔‘
ترجمان نے سعودی عرب کو پاکستان کا دیرینہ سٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دفاعی معاہدوں سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تعاون مزید مضبوط ہوا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سجاد حیدر خان نے غیر ملکی میڈیا کی ان رپورٹس کو بھی مسترد کیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستانی لڑاکا طیاروں نے سرحد پار فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا ہے۔
انہوں نے ان رپورٹس کو قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیر اطلاعات پہلے ہی ان دعوؤں کی تردید کر چکے ہیں۔
پاکستانی شہریوں کو خطرات
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سعودی عرب میں مقیم اور کام کرنے والے تقریباً 25 لاکھ پاکستانیوں کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہی ہے۔
ان کے مطابق اسی وجہ سے سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کے لیے براہ راست اہمیت کا معاملہ ہے۔
سجاد حیدر خان نے یمن میں حال ہی میں ایک پاکستانی ٹرک ڈرائیور کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کشیدگی میں مزید اضافہ دوسرے پاکستانی شہریوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
انہوں نے کہا ’اس کشیدگی کے نتیجے میں کسی بھی شخص کے متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کرتا رہا ہے۔
’اس کے ساتھ ساتھ ہم سعودی عرب کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے بھی پُرعزم ہیں اور وہاں مقیم پاکستانی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔‘