کسان رہنما سرون سنگھ پندھر نے صحافیوں کو بتایا کہ ’فروری میں ہم نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے چار دور کیے لیکن اس کے بعد ہمارے مطالبات پر مزید کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ہمیں اپنے جمہوری حق کے تحت احتجاج کرنے دے۔‘
کاشت کار
پنجاب میں گندم کی کٹائی شروع ہو چکی ہے لیکن کسان اپنے دانے حکومت کے مقرر کردہ نرخ سے کم قیمت پر بیچنے پر مجبور ہیں۔