گندم نہ بکی تو جانور، زرعی آلات بیچنے پر مجبور ہوں گے: کسان

کاشتکاروں سے گندم کی خریداری کے حوالے سے سب سے زیادہ بری صورت حال پنجاب میں ہے، جہاں صوبائی وزیر خوراک کے مطابق 23 لاکھ ٹن درآمدی گندم گوداموں میں موجود ہے اور لہذا حکومت مزید گندم خریدنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

مرکزی پنجاب کے علاقے اوکاڑہ کے گاؤں لنڈیاں والہ کے کاشتکار علی رضا ٹریکٹر پر کٹائی کے بعد تھریش ہونے والی گندم کو سمیٹنے جا رہے ہیں لیکن وہ فصل آنے پر خوشی کے بجائے بجھے ہوئے دل سے دانے اکٹھے کرنے پر خود کو آمادہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس سال حکومت نے فی من گندم کا ریٹ گذشتہ سال کے 4000 روپے فی من کے مقابلہ میں 3900 روپے مقرر کیا ہے۔

مگر اس ریٹ پر بھی گندم کی خریداری نہ ہونے پر علی رضا سوچوں میں گم ہیں کہ فی ایکڑ فصل تیار کرنے کا خرچ ڈیڑھ لاکھ روپے سے بھی زیادہ جب کہ آمدن بہت کم۔ کس طرح گندم کی کٹائی اور تھریشر پر کام کرنے والے مزدورں کی اجرت دے پائیں گے۔

علی رضا کے بقول، ’وہ 22 ایکڑ زمین ٹھیکے پر لے کر کاشتکاری کر رہے ہیں۔ ایک سال کا فی ایکڑ ٹھیکہ دو لاکھ روپے ہے یعنی چھ ماہ کا ایک لاکھ روپے بنتا ہے۔

’ہل، بیج، کھاد، سپرے، پانی اور کٹائی وغیرہ کے اخراجات ڈال کر فی ایکڑ خرچہ ایک لاکھ 55 ہزار روپے بنتا ہے۔ ان کی فی ایکڑ اوسط پیداوار 45 من ہوئی ہے اور اگر وہ 3000 روپے فی من کے حساب سے بھی فروخت کریں تو ایک لاکھ 35 ہزار روپے بنتا ہے۔ فی ایکڑ 20 ہزار کو جمع کریں تو پھر بھی چار لاکھ 40 ہزار روپے کا نقصان ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس گاؤں میں 250 مربع گندم کاشت کی گئی لیکن کسی بھی کاشتکار کی گندم کا ایک دانہ بھی ابھی تک فروخت نہیں ہوا۔ میں نے اس ماہ 30 تاریخ کو بیٹی کی شادی طے کی تھی کہ گندم فروخت ہو گی تو شادی کا خرچ اٹھا لوں گا۔

’مگر اب وہ منسوخ کرنا پڑی۔ میری دوبیٹیاں، بیوی، والدہ اور والد ہیں۔ گھر کا میں واحد کمانے والا ہوں۔ ان حالات میں کیسے گھر کے اخراجات پورے کریں۔ کیسے فصلیں اگائیں۔ والدین کی دوائی کا خرچ الگ ہے۔ ‘

علی رضا نے کہا کہ ’حکومت کی جانب سے اعلان کے باوجود باردانہ بھی نہیں دیا گیا۔ گندم اٹھا کر گھروں میں ذخیرہ کر رہے ہیں کیونکہ کوئی سستی بھی خریدنے کو تیار نہیں۔ اب زمین کا ٹھیکہ اور اگلی فصل کا خرچ ٹریکٹر اور جانور بیچ کر پورا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ ہم کاشتکار تو ایک دوسرے کو قرض دینے کے بھی قابل نہیں رہے۔‘

پنجاب میں بیشتر کاشتکار ایسے ہی زمینیں ٹھیکے پر لے کر کاشتکاری سے گزر بسر کرتے ہیں۔

بنیادی سہولیات سے بھی محروم اس گاؤں میں تین چار سو گھر ہیں۔ گلیوں اور احاتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پہلے بھی زیادہ خوشحال نہیں۔ اب گندم کی بحران نے ان کی مایوسی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔‘

حکومت پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال گندم کی پیداوار کے تین کروڑ 21 لاکھ ٹن ہدف کے مقابلے میں تین کروڑ ٹن تک ہونے کا امکان ہے، جب کہ گذشتہ سال گندم کی کھپت دو کروڑ 80 لاکھ ٹن تک رہی تھی۔

نگران دور حکومت کے دوران 40 لاکھ ٹن گندم درآمد ہونے کے باعث وفاقی حکومت نے اپنی خریداری کا ہدف صرف 18 لاکھ ٹن رکھا ہے۔ سب سے زیادہ بری صورت حال پنجاب میں ہے، جہاں صوبائی وزیر خوراک کے مطابق 23 لاکھ ٹن درآمدی گندم گوداموں میں موجود ہے۔ لہذا حکومت مزید گندم خریدنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

گذشتہ سال خریداری کا ہدف 40 لاکھ میٹرک ٹن تھا لیکن اس سال کوئی ہدف مقرر ہی نہیں کیا گیا۔ تاہم چھ ایکڑ کے کاشتکاروں سے 39 سو روپے فی من خریدنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس کے لیے بھی جن تین لاکھ 65  ہزار کاشتکاروں نے آن لائن درخواستیں دیں ہیں ان میں سے جانچ پڑتال کے بعد ڈیڑھ دو لاکھ کاشتکاروں سے گندم کی خریداری کا امکان ہے۔

محکمہ خوراک پنجاب نے کاشتکاروں کے شدید احتجاج پر صوبے میں گندم خریداری کے 400 مراکز قائم تو کر دیے لیکن وہاں کام کے تاحال آثار دکھائی نہیں دیتے۔

انڈپینڈنٹ اردو کی جانب سے اوکاڑہ ریجن کے بڑے سرکاری گندم خریداری سینٹر اختر آباد کا جائزہ لیا گیا، جہاں متعلقہ رقبوں سے گندم کے کاشتکار اکا دکا آکر خریداری کا پوچھ رہے ہیں اور انکار پر مایوس لوٹ رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہاں موجود ایک کاشتکار محمد یوسف نے بتایا کہ ’ہماری 800 من گندم ہوئی ہے جو گھر میں پڑی ہے لیکن خریدار کوئی نہیں۔ سینٹر پر آئے ہیں تو جواب ملا کہ چھ ایکڑ کے کاشتکار سے گندم خریدیں گے لیکن جنہوں نے 17 اپریل تک آن لائن درخواست جمع کرائی ہو گی۔

’ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ کیسے درخواست جمع کرانا ہے لہذا ہمیں صاف انکار کردیا گیا ہے۔

’حکومت بتائے چھ ایکڑ سے زائد رقبے والے گندم کہاں بیچیں؟ اس سال جو حال کسان کا کیا جا رہا ہے آئندہ ہم گندم کاشت نہیں کریں گے تو یہ ہمارے پیچھے خریدنے کے لیے پھریں گے۔‘

لاہور روڑ پر واقع اس سینٹر میں گودام بھی موجود ہیں اور عارضی ٹینٹ لگا کر خریداری کی تیاری بھی دکھائی دی لیکن سینٹر کے انچارج جمیل طاہر نے بتایا کہ انہیں آن لائن جمع ہونے والی کاشتکاروں کی کل 800 درخواستیں موصول ہوئیں، جو جانچ پڑتال کے بعد 200 تک رہ گئی ہیں۔

’میرٹ کے مطابق شرائط پر پورا اترنے والوں سے ہی گندم خریداری کا امکان ہے۔ مگر ابھی تک ہیڈ آفس سے کوئی ہدایت نہیں ملی کہ کب تک گندم کی خریداری شروع کرنا ہے یا کسانوں کو باردانہ دینا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’ماضی کے مطابق طریقہ کار تو یہ ہے کہ ہم کاشتکاروں کو باردانہ دیتے ہیں صرف یہ تصدیق کرتے تھے کہ کاشتکار واقعی اپنی گندم فروخت کر رہا ہے یا کسی اور سے خرید کر بطور مِڈل مین بیچنا چاہتا ہے۔

’مگر اس بار تو ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہے کہ کب تک یہ عمل شروع ہو گا۔

’ہماری تیاری پوری ہے جیسے ہی ہدایات ملیں گی منظور ہونے والی درخواستوں کے مطابق گندم خریدنے کا عمل شروع کر دیں گے۔‘

پنجاب میں کاشتکار ان دنوں گندم سرکاری نرخوں پر تو کیا اس سے کم پر بھی فروخت نہ ہونے کے باعث گھر میں ذخیرہ کر کے خریداروں کا انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بیوپاری اور فلور ملز مالکان اس بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 2000 سے بھی کم قیمت پر مجبور کسانوں سے گندم خرید کر ذخیرہ کر رہے ہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان