وزیراعظم شہباز شریف نے ایک مرتبہ پھر اپنی حکومتی پالیسیوں کے باعث معیشت میں بہتری کا تذکرہ کرتے ہوئے ہفتے کو کہا ہے کہ قرضوں کے ساتھ پاکستان ترقی نہیں کرے گا۔
ہفتے کو ڈیرہ غازی خان میں ایک عوامی جلسے سے خطاب میں شہباز شریف نے جنوبی پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں، اپنی حکومتی پالیسیوں، ملک کی سیاسی، معاشی اور سکیورٹی صورت حال پر گفتگو کی۔
اپنی تقریر میں وزیراعظم نے زیادہ تر گفتگو سرائیکی زبان میں کی اور وقتاً فوقتاً اشعار بھی پڑھے۔
تقریر کے آغاز میں وزیراعظم نے جنوبی پنجاب کے باسیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’جنوبی پنجاب والوں، ہم آپ کو کبھی بھی پیچھے نہیں چھوڑیں گے۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’پنجاب کی ترقی نواز شریف کے زمانے میں ہوئی، آج مریم نواز آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔‘
بقول شہباز شریف: ’نواز شریف نے سیاست کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا، پاکستان کو بچایا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی گذشتہ حکومت میں ملکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’اس وقت 40 فیصد مہنگائی تھی، وہ اب 2.4 فیصد پر آ گئی ہے۔‘ کاروباری افراد، کسانوں اور سرمایہ کاروں کے لیے بینکوں کی شرح سود 22 سے 12 فیصد پر آ گئی۔
بقول شہباز شریف: ’ہم نے سیاست قربان کرنی ہے، پاکستان کو قربان نہیں ہونے دینا، ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہی۔ اب ترقی و خوش حالی کا دور شروع ہوگا۔‘
وزیراعظم نے کہا: ’قرضوں کے ساتھ پاکستان ترقی نہیں کرے گا، دعا کریں کہ قرضے ختم ہو جائیں۔ کسان فصلیں کاشت کریں، صنعتوں کی چمنیوں سے دھواں نکلے اور پاکستان کا کاروبار چمکے۔‘
اپنے غیر ملکی دوروں کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا: ’میں باہر جاتا ہوں تو دعا کرتا ہوں کہ برادر ملک یہ نہ سمجھیں کہ میں کچھ مانگنے آیا ہے۔‘
ساتھ ہی انہوں نے نام لیے بغیر عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’ایک سیاست دان نے کہا کہ شہباز باہر جاتا ہے تو پیسے مانگنے جاتا ہے، میں نے کہا کہ آپ پیسے بانٹنے جاتے تھے۔‘
وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیرہ غازہ خان میں کینسر ہسپتال اور راجن پور میں یونیورسٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہاں بجلی کے بل بھی مزید کم کیے جائیں گے تاکہ زراعت کو فائدہ پہنچے۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’امن قائم کیے بغیر یہ ممکن نہیں ہوسکتا۔‘
بقول وزیراعظم: ’یہ دشمن، گھس بیٹھیے جو گھات لگائے بیٹھے ہیں، خوارجی طاقتیں جو پاکستان کی دشمن ہیں، ان کے کہنے پر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے اور ان خوارج، دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے جو قربانیاں دی جا رہی ہیں، ان قربانیوں کو یاد رکھنا، کبھی بھولنا مت کیونکہ جب تک دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوتا، ملک کی ترقی و خوشحالی نہیں ہوسکتی۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے وفاقی دارالحکومت میں احتجاجی مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا: ’جب تک اسلام آباد میں دھاوے اور چڑھائیاں کی جاتی رہیں گی، ہاکستان کو تباہ برباد کرنے کے لیے، جب تک اس کا خاتمہ نہیں ہوگا۔۔۔ ایک دن کی ہڑتال ہو تو قومی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جب تک جان میں جان ہے، ہم محنت کر کے پاکستان کو عظیم بنائیں گے، ہندوستان کو شکست دیں گے۔
بقول وزیراعظم: ’دن رات محنت کریں گے، ہندوستان کو پیچھے نہ چھوڑا تو میرا نام شہباز شریف نہیں ہے۔‘