پرشانت بھوشن کیس: بھارت کی جمہوریت خطرے سے دوچار

پرشانت بھوشن کے توہین عدالت کیس نے قوم کی توجہ کیسے حاصل کی اور کیوں ابھرتی ہوئی قوم پرستی سے جنگ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ’ہارتی ہوئی جنگ‘ جیسی ہے ان سب موضوعات پر بھارت میں بائیں بازو کے غیر متوقع ہیرو کی ایشیا کے ایڈیٹر ایڈم وٹنال سے بات چیت 

عوامی مفاد کے کیس لڑنے والے پرشانت بھوشن کا بھارتی سپریم کورٹ کے خلاف موقف بھارتی میڈیا کی بڑی خبر بن گیا(ایڈم وٹنال/انڈپینڈنٹ) 

پرشانت بھوشن ذہنی طور پر جیل جانے کے لیے تیار تھے۔ 63 سالہ وکیل دو ٹویٹس کی وجہ سے انڈین سپریم کورٹ کی طرف سے توہین عدالت کے مرتکب پائے گئے۔ جج صاحبان کے مطابق یہ ٹویٹس ’نظام انصاف کی بنیاد ہلانے کی کوشش‘ تھی۔ 

پرشانت بھوشن نے ان ٹویٹس میں نریندر مودی حکومت کے پچھلے چھ سالوں میں ’انڈین جمہوریت کے زوال‘ میں سپریم کورٹ کے موجودہ اور کئی سابق چیف جسٹس صاحبان پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بھی زوال کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ بھوشن دہلی کی موجودہ ہندو انتظامیہ پر بہت بے باکانہ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’یہ بھارت یا شاید پوری دنیا کی تاریخ میں بدترین شیطانی (evil) حکومت‘ ہے۔ 

لیکن وہ مودی حکومت کے کوئی معمولی ناقد نہیں ہیں۔ وہ بھارت کے مشہور اور معزز ترین عوامی آئین سازوں میں سے ایک ہیں جنہیں ٹوئٹر پر فالو کرنے والوں کی تعداد ساڑھے 18 لاکھ ہے۔ عدالت نے انہیں معافی مانگنے کا حکم دیتے ہوئے انتباہ کیا کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو وہ انہیں مثال بنا دیں گے۔ بھارت دنیا کے سخت ترین توہین عدالت قوانین والے ممالک میں سے ایک ہے۔ انہیں علامتی جیل کی سزا کے ساتھ پریکٹس سے روک دیے جانے کا بھی امکان تھا۔ اس کے باوجود عوام اور ٹی وی چینلوں پر اس وقت گرما گرم بحث شروع ہو گئی جب بھوشن نے معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے گاندھی کا قول دہرایا، ’عدالت کی طرف کسی بھی سزا کے سامنے بخوشی سر جھکا دو۔‘

طاقت کے خلاف اس جرات نے بھوشن کو سیکیولر اور ترقی پسند بھارت کا ہیرو بنا دیا ۔

بھوشن نے انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے کہا، ’اگر آپ سزا کا حکم نامہ دیکھیں تو لگتا ہے جیسے وہ جیل میں ڈالنے جا رہے ہیں۔ اگر انہیں عوام کے غم و غصے کا ڈر نہ ہوتا تو وہ سخت سزا سنانا چاہتے تھے۔‘ بھوشن کے حق میں ٹوئٹر پر ’بہت زیادہ آواز‘ بلند کی گئی۔

وہ کہتے ہیں لیکن یہ شور سوشل میڈیا سے ہٹ کر بھی تھا۔ تین ہزار سے زیادہ وکلا، ریٹائرڈ ججوں اور بااثر شہریوں نے ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جس کے مطابق اس کارروائی نے ڈراتے ہوئے لوگوں کے ’تنقیدی خیالات کے اظہار پر خوفناک اثرات‘ مرتب کیے ہیں۔ آخرکار 31 اگست کی سماعت پر ججوں نے علامتی سزا سناتے ہوئے ایک روپیہ جرمانہ کیا جسے مسکراتے ہوئے بھوشن نے اپنے وکیل کے ذریعے ادا کر دیا۔

ایک ماہ بعد دہلی میں اپنی رہائش گاہ پر بات کرتے ہوئے بھوشن کہتے ہیں کہ آزمائش ابھی ختم نہیں ہوئی۔ وہ ابھی تک منتظر ہیں کہ عدالت ان کی طرف سے سزا اور جرمانے کے خلاف دائر کردہ نظرثانی کی دو درخواستوں کی سماعت کرے۔ اس کے ساتھ انہیں بار کونسل نے طلب کر رکھا ہے کہ کیوں نہ ان کے خلاف ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بقول تب ان کے کیس کے متعلق میڈیا میں گرما گرم بحثوں کا طوفان برپا تھا جس کی وجہ سے انہیں فائدہ ہوا۔ ان کے بقول، ’عدالت کے متعلق خوفناک تقریر نے بلاشبہ لوگوں کو بولنے کا حوصلہ دیا۔ کیونکہ بہت سے لوگ باہر نکلے اور انہوں نے کہا وہ نہ صرف یہ سب باتیں بلکہ اس سے بڑھ کر بھی بہت کچھ کہتے ہیں اگر آپ انہیں جیل بھیج رہے ہیں تو ہمیں بھی جیل بھیج دیں۔‘

امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی میں فلسفہ پڑھنے کے بعد بھوشن نے1983 میں وکالت کا آغاز کیا اور پچھلی تین دہائیوں سے دہلی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف بھارت میں عوامی مقدمات لڑ رہے ہیں۔ ان کے والد شانتی بھوشن خود ایک نامور وکیل اور سابق وزیر قانون ہیں۔ وہ 1975 میں اندرا گاندھی کے خلاف تاریخی فیصلے کا حصہ تھے جس نے الیکشن نتائج کو منسوخ کر دیا اور اندرا گاندھی کو ایمرجنسی کے ذریعے حکومت قائم کرنا پڑی۔ اس نے نوجوان پرشانت کو طاقت کے نشے اور ’قانون کی عظمت‘ دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ تب سے آج تک اپنے والد کے ساتھ دہلی میں رہتے ہوئے انہیں ابتدا میں ہی پرو بونو (عوامی مفاد) پبلک انٹرسٹ کیس بقول ان کے ’بہت زیادہ پیسے کمائے بغیر‘ لڑنے کا موقع ملا۔ 

بھوپال گیس حادثے کے متاثرین کے معاوضے سے لے کر گجرات میں وسیع سردار سرور ڈیم کی متنازع نقل مکانی سمیت وہ بھارت کے کئی اہم ترین مقدمات کا حصہ رہے ہیں۔ پچھلے مہینے بھوشن اور ان کے والد دونوں کو ایک ہی پروگرام میں انٹرویو کرنے والے ’بھارت ٹوڈے‘ کے اینکر اور سیاسی مبصر رجدیپ سرڈیسائی نے کہا کہ بھارت کی ’گندی‘ جماعتی سیاست سے تنگ اور فنڈز کی ناکافی فراہمی سے متاثرہ وسیع نظام انصاف سے شاید ہی کبھی انصاف حاصل کرنے والے عام شہری پرشانت کو پسند کرتے ہیں۔

سرڈیسائی نے کہا، ’جب بہت سارے لوگوں کو خاموش یا خوف زدہ کر کے ہار ماننے پر مجبور کیا جا چکا ہے، بھوشن ریاست کی طرف سے طاقت کے بکثرت استعمال کے خلاف نہایت بے خوفی اور ثابت قدمی سے آواز اٹھا رہے ہیں۔ 

’ہر بھارتی شہری میں ایک اینٹی اسٹیبلشمنٹ لہر پوشیدہ ہے۔ اس کا اظہار مختلف شکلوں میں ہوتا ہے جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کو پسند کیا جائے جو طاقتوروں سے سوال کرنے کی ہمت رکھتے ہوں۔‘

بھوشن تنہا عوامی نمائندے نہیں جس نے گذشتہ چند سالوں میں انڈین سپریم کورٹ اور حکومت کے درمیان بڑھتی قربتوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بھوشن کے توہین عدالت والے کیس میں بینچ کے سربراہ، سپریم کورٹ کے جج ارون مشرا نے فروری میں جب وزیر اعظم مودی کو ’ہر فن مولا جینیئس‘ اور ’عالمی سطح پر تسلیم شدہ دور اندیش شخصیت‘ کہا تو اس پر شدید ردعمل دیکھنے کو ملا۔

سپریم کورٹ کے کئی سابق ججوں نے تنقید کی اور اسے ’نامناسب‘ کہتے ہوئے کہا کہ اس سے آزاد عدلیہ پر اعتماد کو مجروح کرنے کے خدشات جنم لیتے ہیں۔ عدالتوں کے ساتھ جو کچھ ہوا بھوشن اسے بھارت کے ’سیاسی اداروں پر خونخوار حملہ‘ قرار دیتے ہیں۔ وہ اس کا موازنہ پچھلے مہینے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی بھارت میں بندش سے کرتا ہے۔ حکومت نے اسے منی لانڈرنگ کا مجرم ٹھہرایا اور اس کے بینک اکاؤنٹس سیل کر دیے۔ ایمنسٹی نے حال میں ہی دو تنقیدی رپورٹس جاری کی ہیں جن میں سے ایک اسی سال دہلی میں ہونے والے فسادات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر تنقید اور دوسری 2019 میں کشمیر کے خصوصی آئینی درجہ کی منسوخی پر تھی۔ یہ نہ صرف عدلیہ اور الیکشن کمیشن بلکہ آزادی رائے اور حقوق کے محافظوں پر بھی حملہ ہے۔ 

جو لوگ ابھی تک ڈٹ کر کھڑے ہیں یہ وہ ہیں جو ان کی دھمکیوں یا گرفتاریوں سے ڈرائے نہیں جا سکتے۔ پچھلے سال واضح برتری کے ساتھ دوبارہ الیکشن جیتنے سے مودی مزید اعتماد سے اپنی جماعت کے قوم پرستانہ ایجنڈے پر کار فرما ہے۔ اس کی مخالفت کرنے والے بھوشن جیسے لوگ مزید بری طرح 'ملک دشمن' کہہ کر سائیڈ لائن لگائے جا رہے ہیں۔ 

اگرچہ وہ خود بہت سارے معاملات پر اپنی بات کہنے کے لیے ٹوئٹر کا استعمال کرتے ہیں اس کے باوجود بھوشن بھارت میں بڑھتی ہوئی ’عدم برداشت‘ کا ذمہ دار سوشل میڈیا کو ٹھہراتے ہیں جو ویوز کی خاطر ناخوشگوار خیالات کو وسیع سطح پر پھیلاتا ہے۔ وہ بڑھتی ہوئی قوم پرستی کی جنگ کا موازنہ انسان کی موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ’ہارتی ہوئی جنگ‘ سے کرتے ہیں۔

اس کا رخ موڑنے کے لیے کئی محاذوں پر بہت سا کام کرنا پڑے گا۔ لیکن یہ ناممکن نہیں اور جیسے ماحول کے بارے میں ڈیوڈ اٹنبرو کہتے ہیں ہمارے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں۔ ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘ 

© The Independent

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا