پاکستان کے تقریباً 77 ہزار شہریوں کا حج ادا کرنا خطرے میں پڑ چکا ہے، جس کی وجہ نجی حج گروپ آرگنائزرز کی جانب سے سعودی حکومت کی شرائط پر بروقت عملدرآمد نہ کرنا بتایا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جبکہ سعودی حکام کی جانب سے واضح کر دیا گیا ہے کہ مقررہ وقت میں زون الاٹ نہ ہونے اور منیٰ میں محدود گنجائش کے باعث ان افراد کو ایڈجسٹ کرنا ممکن نہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کو حاصل ہونے والی دستاویزات اور آزادانہ تحقیقات کے مطابق متعلقہ نجی شعبے کی غفلت، عدالتی احکامات اور مالیاتی نظام کی پیچیدگیوں نے اس بحران کو جنم دیا ہے۔
کابینہ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کی شرائط پر عملدرآمد نہ کرنے کے باعث پرائیویٹ حج کوٹہ حاصل نہ کر پانے کا سختی سے نوٹس لیا ہے۔
گذشتہ روز اس ضمن میں حج انتظامات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو تین روز میں وزیر اعظم کو سفارشات جمع کروائے گی۔ اس کمیٹی کا کام ’ذمہ دار افسران کا تعین کرنا ہو گا جن کی وجہ سے موجودہ صورتحال کی رکاوٹ پیدا ہوئی اور نجی حجاج کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے آگے کا راستہ تجویز‘ کرنا ہے۔
سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور چوہدری سلام حسین، جو ایک ماہ قبل وفاقی وزیر برائے مذہبی امور تھے اور اس مسئلے پر کام کر رہے تھے، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ گذشتہ روز حج 2025 انتظامات سے متعلق منعقد کی گئی پریزنٹیشن کے دوران ’وزیر اعظم نے نجی عازمین حج کے 77 ہزار کوٹے سے متعلق صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جس کے منسوخ ہونے کا خطرہ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب کے الیکٹرانک پورٹل کی بندش کے باعث یہ نازک مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ اس حوالے سے سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر نے کہا ہے کہ طوافہ (Tawafa) کمپنی کی ادائیگی کی آخری تاریخ میں توسیع ممکن نہیں ہے۔‘
اس معاملے پر پاکستان علما کونسل کے چیئرمین طاہر محمود اشرفی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا ہے کہ پرائیویٹ حج جس کا کوٹہ 90 ہزار تھا اس میں سے باقی ’تقریبا 77 ہزار عازمین حج کے لیے سعودی عرب نے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ وقت پر زون الاٹ نہیں کروائے گئے اور منیٰ میں جگہ بھی تھوڑی ہے لہذا ان افراد کو اکوموڈیٹ نہیں کیا جا سکتا۔‘
انہوں نے بتایا کہ یہ مسئلہ انڈیا اور نائجیریا سمیت دیگر ممالک کو بھی درپیش ہے لیکن پاکستان سے سب سے زیادہ عازمین متاثر ہو رہے ہیں ’جس کی وجہ پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر کا غیر منظم ہونا ہے۔ سعودی عرب ماضی میں ریلیف دیتا رہا لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہوا۔‘
طاہر اشرفی کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر ’یہ 77 ہزار افراد تاحال حج نہیں کر سکیں گے۔ سعودی عرب کے وزیر برائے حج نے بھی اس پر ہماری وزارت مذہبی امور سے معزرت کر لی ہے۔ اب دیکھنا ہو گا کہ یہ صورتحال کیسے تبدیل ہوتی ہے۔‘
اس سوال پر کہ کیا 14 فروری 2025 کو کیے جانے والے معاہدے سے متعلق حج گروپ آرگنائزر کو معلوم تھا؟ اشرفی نے کہا کہ اس صورتحال کا ’اصل قصور 14 فروری کو کیے جانے والا معاہدہ کرنے والوں کا ہو سکتا ہے جنہوں نے معاہدے کو خفیہ رکھا اور واضح نہیں کیا، جبکہ دوسری وجہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے نظام کا ہو سکتا ہے جس سے متعلق حکومت گروپ آرگنائزر کہہ رہے ہیں کہ وہ اس وجہ سے پیسوں کی ادائیگی نہیں کر سکے۔
نجی حج کوٹہ میں بے ضابطگیوں پر حکومت کی تحقیقات
انڈپینڈنٹ اردو کو حاصل دستاویز جو نجی حج کے سٹیٹس کی تفصیل سے متعلق ہے، کے مطابق سعودی حکومت نے حج 2024 کے لیے نئے ضوابط متعارف کروائے، جن کے مطابق نجی کمپنیوں کے پاس کم از کم 500 حجاج کا کوٹہ ہو گا۔
ضوابط کی اس شق کے تحت 902 حج گروپ آرگنائزرز کو 163 بڑے اداروں، جنہیں ’منظم‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، میں اکٹھا کر دیا گیا۔
اس بریف کے مطابق رواں سال 2025 کے حج کے لیے اکتوبر-نومبر 2024 میں سعودی حکومت نے آپریٹر کا کوٹہ 500 سے بڑھا کر 2000 حجاج کر دیا اور منظم کی تعداد کم کر کے 41 کر دی۔
نومبر میں نجی حج گروپ آرگنائزرز کو حج بکنگ کے لیے پیشگی شرائط پوری کرنے کی ہدایت کی گئی تاہم انہوں نے سروس پرووائڈر معاہدے کو عدالت میں چیلنج کر دیا۔ بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے 28 دسمبر کو حج پیکجز کو حتمی شکل دینے کا عمل روکتے ہوئے اس پر حکم امتناع جاری کر دیا۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جہاں ایک جانب حکومتی سیکٹر نے سعودی عرب میں 88 ہزار 380 افراد کی ڈیڈلائن کو پورا کیا وہیں نجی شعبے کو محدود فنڈز کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
22 دسمبر 2024 کو سعودی عرب میں نجی عازمین حج پروگرام کی بکنگ زونز میں تاخیر اور سعودی عرب میں ان گروپس کے فنڈز میں ناکافی رقوم سے متعلق ایک اجلاس ہوا۔
اس کے نتیجہ میں اضافی رہائش کے لیے زون ایک اور پانچ میں کیمپوں کی ادائیگی کرنے کے بعد زون دو اور چار کے لیے 10 روز کے اندر طے کرنا تھی، ورنہ یہ جگہیں دیگر ممالک کو دستیاب کی جانے کا کہا گیا۔
دستاویز کے مطابق بار بار یاد دہانی کے باوجود کیمپوں کے لیے ادائیگی کرنے میں حج گروپ آرگنائزرز ناکام رہے اور 14 فروری کی حتمی ڈیڈلائن گزرنے کے باوجود طوافہ کی ادائیگی نہیں ہوئی تو کدانا (منیٰ میں جگہ) واپس کر دی گئی سوائے ان 13 ہزار 620 عازمین حجاج کی جگہوں کے جن کی ادائیگی ہو چکی تھی۔
وزارت مذہبی امور کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ نجی حج گروپ آرگنائزرز کو 10 جنوری سے 14 فروری تک حج انتظامات مکمل کرنے کی توسیع بھی کی گئی لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا اور منیٰ میں جگہ اور سہولیات جن میں کھانا اور سروسز وغیرہ شامل ہیں، کی بکنگ نہیں ہو سکی۔
انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے سعودی عرب کا دورہ بھی کیا لیکن اس میں بھی ناکامی ہوئی اور تقریبا 77 ہزار افراد کے حج کوٹے کے ختم ہونے کی بات ہو رہی ہے۔