’مسلمانوں کے خلاف ہتھیار‘: انڈیا میں متنازع وقف ترمیمی بل منظور

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اصلاحات بدعنوانی کے خاتمے اور تنوع کے فروغ کے لیے ہیں، مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مسلم اقلیت کے حقوق کو مزید کمزور کرے گا اور تاریخی مذہبی مقامات کی ضبطی کا باعث بن سکتا ہے۔

انڈین ریاست مدھیہ پردیش میں مسلم وقف بورڈ کی عمارت کے مرکزی دروازے کا منظر (ویب سائٹ مدھیہ پردیش وقف بورڈ)

انڈیا کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کی جانب سے پیش کردہ ایک متنازع بل جمعرات کو منظور کر لیا ہے، جس کا مقصد مسلم وقف (چیریٹی کے لیے مختص زمین) سے متعلق قوانین میں ترمیم کرنا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس بل میں غیر مسلموں کو وقف بورڈز میں شامل کرنے اور حکومت کو وقف جائیدادوں کی توثیق میں زیادہ اختیارات دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اصلاحات بدعنوانی کے خاتمے اور تنوع کے فروغ کے لیے ہیں، مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مسلم اقلیت کے حقوق کو مزید کمزور کرے گا اور تاریخی مذہبی مقامات کی ضبطی کا باعث بن سکتا ہے۔

بل 288 ووٹوں سے منظور ہوا جبکہ 232 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ کانگریس کی قیادت میں حزبِ اختلاف نے اس بل کو غیر آئینی اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی قرار دیا۔

اب یہ بل ایوانِ بالا میں زیرِ بحث آئے گا اور قانون بننے کے لیے صدر دروپدی مرمو کی منظوری درکار ہو گی۔

انڈیا میں وقف جائیدادیں تقریباً 872,000 پراپرٹیز پر مشتمل ہیں جو 10 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلی ہوئی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ جائیدادیں صدیوں پرانی ہیں اور عام طور پر مساجد، مدارس، قبرستانوں اور یتیم خانوں کے لیے وقف ہیں۔ فی الحال یہ جائیدادیں صرف مسلمانوں پر مشتمل بورڈ سنبھالتے ہیں، مگر نئے قانون کے تحت غیر مسلموں کی انتظامی نگرانی لازمی ہو جائے گی، اگرچہ مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں ہو گی۔

ایک اہم اور متنازع پہلو یہ ہے کہ وقف بورڈز کو اپنی جائیدادوں کی ملکیت ثابت کرنے کے لیے ضلعی افسران سے توثیق کرانا ہو گی، حالانکہ کئی وقف جائیدادیں تاریخی ہیں اور ان کے قانونی دستاویزات موجود نہیں ہیں۔

اس سے ان جائیدادوں پر قانونی دعوے اور مقدمات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے اس بل کو مسلمانوں کے خلاف ’ایک ہتھیار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ذاتی قوانین اور املاک پر حملہ ہے، جس سے مستقبل میں دیگر اقلیتوں کو بھی نشانہ بنانے کی راہ ہموار ہو گی۔

مسلمان، جو کہ آبادی کے 14 فیصد اور انڈیا کی سب سے بڑی اقلیت ہیں، اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک میں مساوات اور عدم امتیاز کے اصولوں کے تحت نظام چل رہا ہے، مگر اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی ادارے انڈیا میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے امتیاز اور تشدد پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔

امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے حالیہ رپورٹ میں انڈیا میں مذہبی آزادی کی صورت حال کو خراب قرار دیا ہے۔

بل کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بل مذہبی جائیدادوں کے انتظام کو سیاسی بنا رہا ہے اور پہلے سے موجود فرقہ وارانہ کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا