سوال یہ ہے کہ ریاست پاکستان نے وہ اہم موقع کیسے گنوایا، جب بلوچ علیحدگی پسندوں نے قومی دھارے کا حصہ بننے کے لیے ہتھیار پھینک دیے تھے؟
شورش
بی ایل اے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں 57 سالہ میر عبدالنبی بدوزئی بنگلزئی عرف ’چنکامیر‘ کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان پر حملہ کہاں ہوا۔