‎وادیِ شوگراں، جہاں بادل اترتے ہیں

اس وادی کا سب سے ناقابلِ فراموش نظارہ وہ ہے جب آپ اپنے ہوٹل کی بالکونی میں کھڑے ہوں اور سامنے صرف دھند کی چادر ہو اور پھر ایک دم ہوا کا جھونکا اس چادر کو ہٹائے اور وادی کا حسن آشکار کر دے۔

وادیِ شوگراں کی خوبی یہی ہے کہ اسلام آباد سے چند گھنٹوں کی مسافت کے بعد آپ یہاں پہنچ سکتے ہیں (Almazi - Public Domain)

‎‎خیبر پختونخوا کی تحصیل بالا کوٹ بلاشبہ پاکستان کے شمالی ‎علاقوں کا دروازہ ہے اور یہ دروازہ واقعی قدم قدم پر فطرت کے عجائب گھر کھولتا ہے۔

ضلع مانسہرہ کی حدود میں دریائے کنہار کسی بھی سیاح کو پہلا دیدار بالا کوٹ سے کچھ پہلے عطا کرتا ہے۔ ناران سے آنے والا کنہار دریا تو مظفر آباد کشمیر کی طرف مڑ کر دریائے نیلم میں جا گرتا ہے مگر جس طرف سے اس کا پانی آتا ہے، اس طرف بلند ہوتی سڑک پر چلتے جائیں تو کنہار دریا بہت نیچے رہ جاتا ہے اور ہم کیوائی آبشار تک جا پہنچتے ہیں۔

نیلام ہو کر شہر میں بدل جانے والی یہ آبشار صرف 10 سال پہلے تک صرف آبشار ہی تھی، اب وہاں ہوٹل ہیں، ڈھابے ہیں اور ہر طرف بک جانے والی فطرت ہے، جہاں لمحہ لمحہ گزرتا ہے تو اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

کیوائی آبشار سے ایک راستہ وادیِ کاغان کی طرف جاتا ہے اور دوسرا شوگراں کی طرف۔ جیپیں اپنے ڈرائیورز کے ساتھ کھڑی آوارہ گردوں اور کوہ نوردوں کا انتظار کرتی ہیں۔ بالا کوٹ سے 34 کلومیٹر اور کیوائی سے 10 کلومیٹر کی دوری پر واقع شوگراں ویلی سطح سمندر سے 2362 میٹر بلند سطح مرتفع ہے اور یہ دنیا کے مشہور پہاڑی سلسلہ ہمالیہ میں ایستادہ ہے۔ سطح مرتفع یعنی پہاڑوں کی چھت، جہاں اطراف میں اس سے زیادہ کوئی بلندی نہ ہو۔

ناران کی طرف نکل جانے والے سیاح شاید نہیں جانتے کہ گول پہاڑی بلندیوں کے اندر گھری یہ وادی جون سے اگست تک دھند کی لپیٹ میں رہتی ہے۔ 2005 کے زلزلے میں یہی وادی تھی جہاں موت نے ڈیرے ڈال دیے تھے۔ اس دوران راستے کی تنگ دامنی امدادی سرگرمیوں کے راستے کی بڑی رکاوٹ بنی تھی۔

کیوائی سے اوپر اٹھتا راستہ بلند و سبز درختوں میں گھرا شوگراں پہنچتا ہے۔ یہ فاصلہ یوں تو چھ کلومیٹر ہے مگر اس وادی کے پیچ و خم اور مسلسل چڑھائی اسے کہیں لمبا بنا دیتی ہے۔ مزید یہ کہ سڑک اکثر زیرِ تعمیر رہتی ہے جس کی وجہ سے سفر کا دورانیہ مزید طویل ہو جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک انتہائی سر سبز وادی جنگل سے گزر کر آپ یک لخت شوگران کی چوٹی پر پہنچ جاتے ہیں تو آنکھوں کے سامنے ایک وسیع سبزہ زار یوں کھلتا ہے جیسے سٹیج پر اچانک سین بدل جائے۔

چاروں طرف فلک بوس پہاڑوں سے گھرا یہ سبزہ زار پورے علاقے میں اپنی مثال آپ ہے۔ بلندی اتنی ہے کہ دیکھتے ہی دودھیا بادل پہاڑوں سے اتر کر اس میدان میں ڈیرے ڈال کر اسے ملفوف کر دیتے ہیں۔

شوگران میں کئی اعلیٰ پائے کے ہوٹل موجود ہیں، جہاں سیاحوں کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے لیے علاوہ یہاں مختلف محکموں کے سرکاری ریسٹ ہاؤس بھی موجود ہیں، جہاں افسران کو سستی رہائش دستیاب ہے۔

البتہ پچھلے چند برسوں کے دوران چھوٹے ہوٹلوں، سستے ریستورانوں اور ڈھابوں نے شوگراں پر دھاوا بول دیا ہے اور اب یہ ایک چھوٹے موٹے بازار کا منظر پیش کرتا ہے۔ سیزن کے دوران بھیڑ بھاڑ کا یہ عالم ہو جاتا ہے کہ باقاعدہ ٹریفک جام کا سا سماں ہوتا ہے۔  

لیکن خیر یہ بھیڑ بھاڑ، یہ ٹریفک جام تو اب پاکستان کے تقریباً ہر سیاحتی مرکز کا مقدر بن گیا ہے، اس لیے اس پر کڑھنے کے سوا کچھ اور نہیں کیا جا سکتا، اس لیے اس سے پہلو بچا کر دوبارہ شوگران کے حسن کی طرف نظر کرتے ہیں۔

اس وادی کا سب سے ناقابلِ فراموش نظارہ وہ ہے جب آپ اپنے ہوٹل کی بالکونی میں کھڑے ہوں اور سامنے صرف دھند کی چادر ہو اور پھر ایک دم ہوا کا جھونکا اس چادر کو ہٹائے اور وادی کا حسن آشکار کر دے۔

شوگراں سے سری صرف چھ کلومیٹر اور پائے مزید آگے تین کلومیٹر کا جیپ ٹریک ہے، یہاں تک پہنچنے میں صرف 30 سے 40 منٹ لگتے ہیں، تاہم اگر آپ اپنی گاڑی لے کر گئے ہیں تو وہ آپ کو شوگران ہی میں چھوڑنا پڑے گی کیوں کہ آگے کی کیچڑ بھری سڑک صرف فور ویل جیپوں کے لیے موزوں ہے۔

یہ راستہ بھی اس قدر ناہموار ہے کہ آپ کو سسپینشن سے عاری جیپ کے ڈنڈے مضبوطی سے تھام کر رکھنے پڑتے ہیں ورنہ آپ تھالی کے بینگن کی طرح جیپ کے فرش پر لڑھکتے رہیں گے۔

سری اور پائے اس علاقے کی سطح مرتفعی ہے۔ آپ اسے چھوٹا دیوسائی بھی کہہ سکتے ہیں، بالکل ایسے ہی جیسے استور، چھوٹا کشمیر کہلاتا ہے۔ پائے پر بارش کا نزول معمول کی بات ہے۔ سری اور پائے دونوں ایسے میڈوز ہیں کہ جی چاہتا ہے کہ اس نرم گھاس کو انگلیوں کی پوریں چھوتی رہیں۔

سری کے مقام پر بھی ڈھابوں نے جنگلی کھمبیوں کی طرح یلغار کر دی ہے۔ سستے پکوڑے، ابلے ہوئے انڈے، ٹھنڈی بوتلیں جنہیں ٹھنڈا کرنے کے لیے فرج کی ضرورت نہیں، بسکٹوں اور ٹافیوں کی درجنیں بےترتیب دکانیں یہاں کھل گئی ہیں۔

سطح سمندر سے 8500 فٹ بلند سری اور 9500 فٹ بلند پائے کا راستہ صرف شوگران سے جاتا ہے۔ ہواؤں کا پراسرار شور وادی کو تمام بلندیوں سے منفرد کرتا ہے۔

ایک شاندار ایڈونچر یہ ہو سکتا ہے کہ آپ اپنا سفری خیمہ ساتھ لے آئیں اور بغیر رقم خرچ کیے یہاں پر قیام کریں۔ البتہ یہ یاد رکھیں کہ کسی بھی وقت یہاں بارش ہو سکتی ہے اور نہ بھی ہو تو رات کو پارہ اتنا گر جاتا ہے کہ بغیر جیکٹ کے گزارا نہیں ہو سکتا۔  

 یوں تو شوگراں کے آس پاس بہت سے عجائبات ہیں مگر پائے سے ایک پیدل ٹریک 13600 فٹ بلند چوٹی مکڑا کی طرف جاتا ہے۔ برفیلے وجود لیے یہ بلندیاں خیبرپختونخوا اور کشمیر کی سرحد پر واقع ہیں۔

ناران اور شمالی پاکستان کی طرف جانے والے سیاح شوگراں وادی کو ہمیشہ نظر انداز کر جاتے ہیں، حالانکہ یہ وادی بالاکوٹ سے زیادہ دور بھی نہیں۔

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ