امتیاز حسین کا کہنا ہے کہ ’ہمیں کوئی سپانسر نہیں ملتا، ہم صرف پاکستان کے جھنڈے کے لیے جاتے ہیں۔ یہ ہمارا جنون، ہمارا عشق ہے۔‘
پہاڑ
نیپالی حکام کے مطابق کوہ پیماؤں کو بیس کیمپ سے فضلے کے لیے مخصوص بیگ خریدنے ہوں گے جو ان کی واپسی پر چیک کیے جائیں گے۔