آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری رضا باقر کے مطابق ملک بھر میں 187 سے زائد ٹیکسٹائل ملز بند ہو چکی ہیں۔ اگر حکومت نے فوری طور پر مسائل حل نہ کیے تو اس شعبے میں پاکستان کی برآمدی صلاحیت خطرناک حد تک کم ہونے کا اندیشہ ہے۔
ٹیکسٹائل
پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ خرم مختار کہتے ہیں کہ 100 سے زیادہ چھوٹی ملوں نے معیاری کپاس کی کمی، ایندھن کی زیادہ قیمتوں اور سیلاب زدہ علاقوں میں خریداروں سے وصولیوں میں دشواری پر کام کرنا معطل کر دیا ہے۔