حالیہ ہفتوں میں طالبان کے اندرونی اختلافات زیادہ نمایاں ہوئے ہیں خاص طور پر اس وقت جب نائب وزیر خارجہ عباس ستانکزئی نے غیر معمولی طور پر طالبان کے سپریم رہنما ہبت اللہ اخوندزادہ پر عوامی تنقید کی۔
ذبیح اللہ مجاہد
دوحہ معاہدے میں کہا گیا تھا کہ طالبان سب کے ساتھ بات چیت کریں گے لیکن اب جب کہ طالبان اقتدار میں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انہیں امن مذاکرات کی ضرورت نظر نہیں آتی۔