محمد اشفاق نے کہا کہ جب کیمرے نہیں ہوتے تھے تو بس صرف چلے جاتے تھے اور گھوم کر کے واپس آجاتے تھے۔ اب اچھے کیمرے لے لیے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ شوٹنگ بھی شروع کر دی ہے۔
جھیل
ناران سے بابو سر ٹاپ تک جانے والے، یا پھر گلگت بلتستان کے عشق میں مبتلا سیاح دودی پت جھیل کو اس لیے نظرانداز کر جاتے ہیں کہ وہ ابھی نیلام نہیں ہوئی۔ نیلام نہ ہونے والی جھیلوں کی تشہیر بھی نہیں کی جاتی، اس لیے وہ آنکھ سے اوجھل رہتی ہے۔