پاکستان کی ایک عدالت نے امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل کیس میں احمد عمر سعید شیخ عرف شیخ عمر کی سزائے موت کو سات سال قید میں تبدیل کردیا۔
سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جمعرات کو سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر 18 سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے تین ملزمان فہد نسیم، شیخ عادل اور سلمان ثاقب کو رہا کرنے کا بھی حکم دیا۔
امریکہ کے مشہور اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘کے جنوبی ایشیا کے بیورو چیف 38 سالہ پرل کو جنوری 2002 میں کراچی سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ مذہبی انتہا پسندی پر ایک خبر پر کام کرہے تھے۔ بعد میں انھیں قتل کردیا گیا۔ ڈینیل پرل قتل کیس کو عالمی میڈیا نے بڑی کوریج دی۔
حیدرآباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ڈینیل پرل قتل کیس میں نامزد اہم ملزم شیخ عمر کو سزائے موت سناتے ہوئے دیگر تین ملزمان فہد نسیم، شیخ عادل اور سلمان ثاقب کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
بعد ازاں شیخ عمر اور دیگر نے 2002 میں سندھ ہائی کورٹ میں سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر کر دیں، جن پر مختلف وقتوں میں سماعت ہوتی رہی۔ گذشتہ 10 سالوں کے دوران چاروں ملزمان کے وکیل نہ ہونے کی وجہ سے سماعت ملتوی ہوتی رہی۔
انھوں نے کہا کہ اس کیس میں تمام گواہ پولیس اہلکار تھے اور پولیس نے مجرموں کے خلاف ٹرائل میں ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے۔
شیخ عمر کون ہیں؟
دسمبر 1973 میں پیدا ہونے والے شیخ عمر برطانوی شہری ہیں، جنھوں نے برطانیہ اور پاکستان میں تعلیم حاصل کی۔
برطانیہ میں دورانِ تعلیم وہ مسلمانوں کا ساتھ دینے بوسنیا چلے گئے، بعد میں وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھی سرگرم رہے۔
اکتوبر 1994 میں نئی دہلی سے ایک امریکی اور تین برطانوی شہریوں کے اغوا کے الزام میں انھیں گرفتار کیا گیا۔ شیخ عمر نے واردات میں ملوث ہونے کا اقرار کیا تھا، جس کے بعد انھیں بھارت میں جیل بھیج دیا گیا۔
وہ ان تین شدت پسندوں میں شامل تھے جنھیں 1999 میں انڈین ائیر لائن کی ایک فلائیٹ ہائی جیک ہونے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ میں دعوٰی کیا ہے کہ شیخ عمر برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کے ایجنٹ تھے اور بعد میں شاید ڈبل ایجنٹ بن گئے۔