امریکہ میں تو ایلون مسک آری لے کر بیورو کریسی کی خبر گیری کرنے میدان میں آ گئے، سوال یہ ہے کہ پاکستان کی نو آبادیاتی افسر شاہی کے لیے کوئی ایلون مسک کب آئے گا؟
ذرا تصور کیجیے پاکستان کی افسر شاہی سے کسی نے یہ سوال پوچھ لیا کہ آپ کی افادیت کیا ہے کہ آپ کو اس عہدے پر برقرار رکھ کر آپ کے ناز نخرے اٹھائے جائیں تو افسر شاہی کے پاس کیا جواب ہو گا؟
افسر شاہی کو چھوڑ دیجیے ، یہی سوال یہاں بہت سارے محکموں سے پوچھ لیا جائے کہ آپ کا ملک وقوم کو کوئی فائدہ بھی ہے یا آپ صرف تنخواہیں بٹورنے کے لیے بیٹھے ہیں تو ملک اسی وقت نازک دور سے گزرنا شروع ہو جائے گا۔
حتیٰ کہ پارلیمان اور عدلیہ سے بھی کوئی یہ سوال پوچھ لے کہ دنیا بھر میں کارکرردگی کے اعتبار سے آپ کا نمبر کیا ہے اور معاوضے اور مراعات حاصل کرنے میں آپ کون سے نمبر پر ہیں، تو ملک میں کافی شدید نوعیت کا زلزلہ آ سکتا ہے جس سے عدلیہ کی آزادی اور پارلیمان کی بالادستی دونوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
کوئی صرف یہی پوچھ کر دکھا دے کہ سپریم کورٹ کا ایک جج ریٹائرمنٹ کے بعد بنیادی تنخواہ کی قریب 80 فی صد پنشن اور مراعات کی شکل میں وصول کرتا ہے، کیوں؟
امریکہ کا صدر اپنے سٹاف اور افسر شاہی کے ساتھ جس وائٹ ہاؤس میں رہتا ہے اس کا رقبہ 152 کنال ہے اور ہمارا سرگودھا کا ڈپٹی کمشنر تن تنہا، اکیلا، جس سرکاری محل میں رہتا ہے اس کا رقبہ 104 کنال ہے۔
اصل بادشاہی کس کی ہوئی؟ ٹرمپ کی یا کمشنر سرگودھا کی؟ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی رپورٹ کے مطابق ملک میں افسر شاہی کی ایکڑوں کی یہ سرکاری رہائش گاہیں اگر نجی شعبے کے حوالے کر دی جائیں تو تقریباً پونے دو کھرب روپے حاصل ہو سکتے ہیں۔
انہیں صرف کرائے پر چڑھا دیا جائے تو تیرہ چودہ ارب روپے حاصل ہو سکتے ہیں۔ تصور کیجیے یہ صورتحال امریکہ میں ہوتی تو عوام کا رد عمل کیا ہوتا؟
صرف اسلام آباد میں بیوروکریسی کے محلات کا رقبہ 864 ایکڑ ہے اور یہ بیس تیس چالیس اور پچاس پچاس ایکڑ کے سائز کے ٹکڑوں میں بنائے گئے ہیں۔
ان محلات کو اگر کمرشل کر کے یہاں بڑی بڑی عمارات بنائی جائیں تو تقریباً سات آٹھ سو ارب روپے قومی خزانے میں جمع ہو سکتے ہیں۔
کیا واشنگٹن کی افسر شاہی اس مال مفت کا تصور بھی کر سکتی ہے؟ کیا امریکی افسر شاہی کی مجال ہے کہ ہمارے اسلام آباد کلب کی طرح وہ واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس سے چند فرلانگ کے فاصلے پر 244 ایکڑ سرکاری زمین ہتھیا کر اپنے لیے ایک کلب بنا لے اور اس کا سالانہ ایک چوتھائی ڈالر فی ایکڑ سالانہ ہو؟ یہ مزے تو صرف ہماری افسر شاہی کے ہیں۔
کیا امریکی افسر شاہی کی جرات ہے کہ جم خانہ کلب کی طرح نیویارک میں کہیں ایک ہزار نوے کنال زمین پر اپنا کلب بنا لے اور پنجاب اسمبلی کی طرح وہاں کانگریس بے بسی سے دہائی دیتی پھرے کہ نو آبادیاتی شہنشاہو کم از کم لیز کی معمولی رقم تو ادا کر دیا کرو؟
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی رپورٹ کے مطابق ہمارے بیورکریٹ کی اوسط تنخواہ اقوام متحدہ کے سٹاف کی تنخواہ سے 12 فیصد زیادہ ہے۔ کیا امریکی بیوروکریسی اس مال غنیمت کا سوچ بھی سکتی ہے؟
کیا امریکی بیوروکریٹ کو بھی ریٹائرمنٹ پر پلاٹ عطا کیا جاتا ہے تاکہ اسے بیچ کر مزے کرے یا فارغ وقت میں کالم نگاری کر کے یا ٹی وی شوز میں بیٹھ کر قوم کی رہنمائی فرمانا چاہے تو کم از کم اس مسکین کو چھت تو میسر ہو؟
کیا وائٹ ہاؤس کی افسر شاہی بھی ہمارے وزیر اعظم ہاؤس کی افسر شاہی کی طرح اتنی تگڑی ہے کہ اس کی خوشنودی کے لیے ہمارے وزیر اعظم کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ بھی چار اضافی تنخواہوں کا اعلان کر دیں اور پھر تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے رقم نہ ہو تو ہماری طرح بینکوں سے 23 فی صد شرح سود پر قرض لے لیں؟
امریکہ کی بیوروکریسی تو پھر بہتر ہو گی، کم از کم امریکیوں کو انسان تو سمجھتی ہو گی۔ ہماری افسر شاہی تو نو آبادیاتی ہے جو شہریوں کو رعایا سمجھتی ہے۔
ایلون مسک ٹرمپ کا اے ٹی ایم ہے۔ اس نے ٹرمپ کی انتخابی مہم میں ایک چوتھائی ارب ڈالر خرچ کیے۔ اے ٹی ایم تو ہمارے اہل سیاست نے بھی رکھے ہوئے ہیں اور اس میں کچھ اسلامی بینکاری کے اے ٹی ایم بھی ہیں لیکن ایلون مسک جیسا کوئی بھی نہیں۔ یعنی افسوس کہ ہمیں تو اے ٹی ایم بھی اچھے نہیں ملے۔
ایلون مسک کی افتاد طبع کا امریکہ کب تک اور کس حد تک متحمل ہو سکے گا، یہ ایک الگ سوال ہے۔ تاہم امریکی بیوروکریسی بھی سوچتی تو ہو گی کہ امریکہ کا تو نام ہی بدنام ہے، اصل سپر پاور تو پاکستان کی افسر شاہی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہوںا ضروری نہیں۔