افغان شائقین جو کام سے چھٹی کرکے کرکٹ میچ دیکھتے ہیں

پاکستان سے افغانستان پہنچنے والا کرکٹ کا کھیل تین دہائیوں سے بھی کم وقت میں افغانوں کے ذہنوں پر چھا گیا ہے۔

پاکستان سے افغانستان پہنچنے والا کرکٹ کا کھیل تین دہائیوں سے بھی کم وقت میں افغانوں کے ذہنوں پر چھا گیا ہے اور اب زیادہ تر افغان بالخصوص پشتو بولنے والے اس کھیل کے دیوانے ہیں۔

افغانستان میں آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2022 کے میچوں کو قانونی طور پر آریانا ٹی وی نشر کرتا ہے جبکہ کچھ مقامی چینلز موقع ملتے ہی چوری چھپے اسے نشر کرتے رہتے ہیں۔

افغان شہری اپنی قومی ٹیم سمیت ورلڈ کپ کے دیگر میچز دیکھنے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ وہ یا تو گھروں پر ٹی وی سکرین پر یا پھر موبائل پر دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوست احباب کے ساتھ ہوٹلوں اور ڈھابوں پر بھی کرکٹ میچوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

صوبہ ننگرہار سے تعلق رکھنے والے خان ولی شنواری، جو کابل میں رہائش پذیر ہیں، نے بتایا: ’ہم افغانستان کے سارے میچز پسند کرتے ہیں۔ کرکٹ کو ہم خاص توجہ دیتے ہیں اور ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کی کامیابی کے لیے دعائیں کرتےہیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’زیادہ تر لوگ اپنے گھروں میں ٹی وی پر کرکٹ کے میچز دیکھتے ہیں۔ دکانوں اور ہوٹلوں میں بھی میچز دیکھنے کا بہتر انتظام ہوتا ہے جبکہ کچھ تفریحی پارکوں میں بڑی سکرینوں کا خاص انتظام بھی موجود ہوتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شہروں سے باہر جہاں ٹی وی کی رسائی نہیں ہے یا بجلی چلی جاتی ہے تو پھر شائقین ریڈیو پر کمنٹری یا پھر انٹرنٹ کے ذریعے میچز کا حال معلوم کرتے ہیں۔

خان ولی شنواری کے مطابق: ’کچھ لوگ تو ان میچز کو دیکھنے کی خاطر اپنے کام سے چھٹی بھی کرتے ہیں۔‘

ایک ہوٹل کے مالک گلستان شنواری نے کہا: ’ہم نے اپنے ہوٹل میں سکرین لگائی ہوئی ہے، جس پر لوگ آکر میچز دیکھتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’مجھے راشد خان زیادہ پسند ہیں کیوں کہ وہ ایک کھلاڑی کے ساتھ بہترین انسان بھی ہیں۔ ہم اپنے کھلاڑیوں سے یہی چاہتے ہیں کہ بہترین پرفارمنس پیش کریں تاکہ آگے جائیں اور ورلڈکپ جتوائیں۔‘

سابق کرکٹر سید فضل اللہ نے بتایا کہ ان کے گھر میں تو کیبل نیٹ ورک موجود ہے لیکن دوستوں کے ساتھ میچ دیکھنے کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’کرکٹ پیار کا کھیل ہے۔ اسے محبت کے ساتھ کھیلا جانا چاہیے لیکن پھر بھی کبھی کبھار اس میں جذبات قابو سے باہر ہوجاتے ہیں۔ میں خود بھی کرکٹر ہوں تو جذبات قابو کرنا مشکل ہوتا ہے۔‘

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ