پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورۂ نیوزی لینڈ ایک اور مایوس کن شکست کے ساتھ اس وقت اختتام پذیر ہوا جب پاکستانی ٹیم تیسرے اور آخری ون ڈے انٹرنیشنل میں بھی فتح حاصل نہ کر سکی اور میزبان ٹیم کے ہاتھوں 43 رنز سے شکست کھا گئی۔
بارش سے متاثرہ اس میچ میں نیوزی لینڈ نے 42 اوورز کے محدود مقابلے میں شاندار بیٹنگ کے بعد پاکستان کو دباؤ میں رکھا، اور سیریز میں 3-0 کی فیصلہ کن برتری کے ساتھ کلین سویپ کر دیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اگرچہ پاکستانی ٹیم نے نیوزی لینڈ کا 264-8 کا ہدف حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن اسے ایک بار پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور 42 اوورز فی اننگز کے اس بارش سے متاثرہ میچ میں 221 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر بین سیئرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 34 رنز کے بدلے وکٹیں حاصل کیں۔ یہ ان کی مسلسل دوسرے میچ میں پانچ وکٹوں کی کارکردگی ہے۔
پاکستان نے اپنی اننگز کا آغاز جارحانہ انداز میں کیا، لیکن اوپنر امام الحق کے زخمی ہو جانے سے ٹیم کو ایک دھچکا لگا۔ امام اننگز کے تیسرے اوور میں وکٹوں کی طرف پھینکا گیاایک تھرو سے سر پر لگنے کے باعث زخمی ہو گئے اور میدان سے باہر چلے گئے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستانی بولنگ میں آصف جاوید نمایاں رہے، جنہوں نے وکٹیں حاصل کیں، جبکہ نسیم شاہ نے بھی دو اہم وکٹیں لیں اور اچھی لائن و لینتھ کے ساتھ بولنگ کی۔
پاکستانی اننگز کا آغاز ہوا تو اوپنر امام الحق زخمی ہو کر ریٹائرڈ ہرٹ ہو گئے۔ ان کے ہیلمٹ پر لگنے والی گیند کے باعث وہ گراؤنڈ سے باہر چلے گئے۔
کپتان بابر اعظم نے 50 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیل کر ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش کی، لیکن ہدف کے تعاقب میں مڈل آرڈر ایک بار پھر ناکام رہا اور آخری اوورز میں مطلوبہ رن ریٹ ٹیم کے بس سے باہر ہو گیا۔
نیوزی لینڈ کے نوجوان فاسٹ بولر بین سیئرز نے پاکستان کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا۔ انہوں نے محض 34 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں اور مین آف دی میچ قرار پائے۔
پاکستان اس دورے میں صرف ایک ٹی ٹوئنٹی میچ جیت سکا، جبکہ باقی چار ٹی ٹوئنٹی اور تینوں ون ڈے میچز میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔