امریکہ میں ٹک ٹاک پر پابندی مؤخر

صدر ٹرمپ کے مطابق وہ ٹک ٹاک کو ایک امریکی خریدار تلاش کرنے کی ڈیڈلائن میں 75 دن کی اضافی مہلت دیں گے۔

15 مارچ، 2025 کو پیرس میں لی گئی یہ تصویر میں آئی فون کی سکرین پر چینی سوشل میڈیا ایپلی کیشن ٹک ٹاک شاپ کا لوگو دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا کہ وہ ٹک ٹاک کو ایک امریکی خریدار تلاش کرنے کی ڈیڈلائن میں 75 دن کی اضافی مہلت دیں گے تاکہ ’تمام ضروری منظوریوں پر دستخط یقینی بنائے جا سکیں‘ اور اس مقبول سوشل میڈیا ایپ کو امریکہ میں بند ہونے سے بچایا جا سکے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’میری انتظامیہ ٹک ٹاک کو بچانے کے لیے ایک ڈیل پر بہت محنت کر رہی ہے، اور ہم نے اس میں زبردست پیش رفت کی ہے۔

’اس ڈیل کو مکمل کرنے کے لیے مزید کام کی ضرورت ہے تاکہ تمام ضروری منظوریوں پر دستخط ہو سکیں، لہٰذا میں ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کر رہا ہوں تاکہ ٹک ٹاک کو 75 دن مزید فعال رکھا جا سکے۔‘

اپنے عہدہ صدارت کے پہلے دن ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے ایپ پر پابندی کو مؤخر کیا اور چینی کمپنی بائٹ ڈانس کو ہفتہ، پانچ اپریل تک مہلت دی کہ وہ ٹک ٹاک کے لیے ایک امریکی خریدار تلاش کرے۔

اس ہفتے وائٹ ہاؤس میں صدر نے ممکنہ خریداری کی پیشکشوں پر اپنے مشیروں اور نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ بات چیت کی۔

اطلاعات کے مطابق انتظامیہ ٹک ٹاک کی خریداری کے ایک معاہدے کے قریب تھی، لیکن چین نے امریکی صدر کی جانب سے چین پر مزید ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد اس عمل کو روک دیا۔

گذشتہ سال منظور کیے گئے دو جماعتی قانون (بائپارٹیزن بل) اور سابق صدر جو بائیڈن کے دستخط شدہ حکم کے مطابق بائٹ ڈانس کو ٹک ٹاک کسی امریکی کمپنی کو فروخت کرنا ہوگی، ورنہ یہ ایپ امریکہ میں ایپ سٹور اورگوگل جیسے سرورز سے ہٹا دی جائے گی۔

اس قانون کا مقصد امریکی شہریوں اور قومی سلامتی کا تحفظ کرنا ہے تاکہ چینی حکومت سے منسلک کسی کمپنی کو امریکی صارفین کے ڈیٹا تک رسائی نہ مل سکے۔

متعدد ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کمپنیوں نے بائٹ ڈانس سے ٹک ٹاک خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جن میں ایمزون، اورسل، پری پلیکسیٹی اے آئی، بلیک سٹون اور دیگر شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایسوسی ایٹڈ پریس کو بات چیت سے واقف ایک شخص نے بتایا کہ جمعرات کو صدر کے ٹیرف کے اعلان کے بعد بائٹ ڈانس کے ساتھ ڈیل ختم ہو گئی۔

رپورٹس کے مطابق بائٹ ڈانس کے نمائندوں نے وائٹ ہاؤس کو بتایا کہ چین اب اس ڈیل کی منظوری نہیں دے گا جب تک کہ ٹیرف اور تجارتی معاملات پر مزید مذاکرات نہ ہوں۔ یہ واضح نہیں کہ معاہدہ اب بھی ممکن ہے یا نہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ چین کے ساتھ ’نیک نیتی‘ سے کام جاری رکھنے کی امید رکھتے ہیں۔

انہوں نے لکھا: ’ہم امید کرتے ہیں کہ ہم چین کے ساتھ نیک نیتی سے کام جاری رکھ سکیں، جنہیں ہماری ریسیپروکل ٹیرف پالیسی پر خوشی نہیں ہو گی (جو کہ چین اور امریکہ کے درمیان منصفانہ اور متوازن تجارت کے لیے ضروری ہے!)‘

معاہدے کو مکمل کرنا ایک مشکل کام ثابت ہوا ہے؛ بائٹ ڈانس نے ابھی تک باضابطہ طور پر ٹک ٹاک سے علیحدگی پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ اس سوشل میڈیا ایپ نے گذشتہ سال اس قانون کو چیلنج کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے اس قانون کو برقرار رکھا۔

یہ قانون صدر کو 75 دن کی ایک بار توسیع دینے کی اجازت دیتا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارت کے دوران ٹکٹاک پر پابندی لگانے کی کوشش کی تھی، لیکن 2024 کی انتخابی مہم کے دوران اپنا مؤقف تبدیل کر لیا اور کہا کہ وہ اس ایپ کو بند ہونے سے ’بچائیں گے‘۔

کانگریس نے ٹک ٹاک کو 19 جنوری تک معاہدہ طے کرنے کی ڈیڈلائن دی تھی، لیکن معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں یہ ایپ کچھ گھنٹوں کے لیے بند ہو گئی۔ جب ٹرمپ نے عہدہ سنبھالا تو انہوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس میں اٹارنی جنرل پام بونڈی کو ہدایت دی گئی کہ وہ ٹک ٹاک کی میزبانی کرنے والے امریکی سرورز کے خلاف 75 دن تک کوئی کارروائی نہ کریں۔

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی