صدر زرداری کی صحت میں بہتری، جلد گھر منتقلی کا امکان: ڈاکٹر عاصم

صدر زرداری کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم حسین نے سوشل میڈیا پر صدر زرداری کی صحت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

آصف علی زرداری پاکستان کے 14ویں صدر ہیں (President.gov.pk)

صدر مملکت آصف علی زرداری کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم حسین نے ہفتے کو بتایا کہ صدر کی صحت میں بتدریج بہتری آ رہی ہے اور امکان ہے کہ انہیں اتوار یا پیر تک ہسپتال سے گھر منتقل کر دیا جائے گا۔

کراچی میں واقع نجی ہسپتال میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم حسین نے سوشل میڈیا پر صدر زرداری کی صحت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آصف علی زرداری کی صحت سے متعلق افواہیں نہ پھیلائی جائیں، انڈین میڈیا ہمارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے معلومات حاصل کر کے انہیں اپنی مین سٹریم میڈیا میں شامل کر رہا ہے، اس لیے ایسی افواہوں سے اجتناب کیا جائے اور احتیاط برتی جائے۔‘

ڈاکٹر عاصم کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے صدر مملکت سے متعلق ویڈیوز بنا کر ان کی صحت کے بارے میں گمراہ کن افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔

عیدالفطر کے موقعے پر نواب شاہ میں طبیعت ناساز ہونے پر صدر زرداری کو کراچی کے ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

بعد ازاں ایوان صدر سے بدھ کو جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہ صدر زرداری کرونا وائرس میں مبتلا ہیں اور انہیں آئیسولیشن میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر عاصم کے مطابق اس وقت پاکستان میں کرونا وائرس کا ایک کم اثرات والا ویرینٹ پھیل رہا ہے۔

’کرونا تاحال پاکستان میں موجود ہے، مگر اب یہ وائرس پہلے جتنا خطرناک نہیں رہا۔ وائرس کے اثرات سے بچاؤ کے لیے اینٹی وائرس دوائیاں دستیاب ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں درست نہیں۔ صدر مملکت کو بلڈ پریشر اور شوگر ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس وقت صدر زرداری سے ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے اور صرف معالجین کو ہی ان تک رسائی حاصل ہے۔ ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک پینل ان کی صحت کی نگرانی کر رہا ہے۔

ڈاکٹر عاصم حسین کے مطابق صدر زرداری کے علاج کی نگرانی انتہائی ماہر ڈاکٹرز کی ایک ٹیم کر رہی ہے اور ان کی حالت میں تسلسل کے ساتھ بہتری آ رہی ہے۔

’صدر مملکت کے اہل خانہ کو روزانہ ان کی صحت سے متعلق مکمل طور پر آگاہ کیا جاتا ہے۔‘

whatsapp channel.jpeg
مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست