یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں پنجابی سٹیج ڈرامے دیکھنے باقاعدگی سے تھیٹر جایا کرتا تھا۔ لاہوریوں کے لیے یہ ایک بہترین تفریح تھی۔
ہر ڈرامے کا پروڈیوسر یہ کوشش کرتا تھا کہ بڑے اداکاروں کو کاسٹ کر کے کھیل پیش کرے۔ عموماً یہ بڑے اداکار کھیل شروع ہونے کے آدھ پون گھنٹے بعد جلوہ گر ہوتے تھے۔ ان سے پہلے نسبتاً جونیئر اداکاروں کو موقع دیا جاتا تھا کہ وہ تماشائیوں کا دل بہلائیں۔
ایسے ہی ایک ڈرامے میں چھوٹے سے قد کے نوجوان کی انٹری ہوئی۔ اس نوجوان کا تعلق فیصل آباد سے تھا۔ اس نے سٹیج پر آتے ہی ساتھی اداکاروں پر تابڑ توڑ جگتیں لگانی شروع کر دیں۔ جو اداکار اس کی جگت کا جواب دینے کی کوشش کرتا یہ نوجوان اس سے بڑھ کر نئی جگت لگا دیتا۔ وہ لگاتار بغیر کسی وقفے کے جملے بولتا رہا اور اس کے ساتھی اداکار بے بسی سے اس کا منہ دیکھتے رہے۔
ایسا لگتا تھا جیسے اس کے دماغ میں کوئی مشین فِٹ ہے جو تیزی کے ساتھ فقرے تخلیق کرتی چلی جا رہی ہے اور وہ کسی طوفان میل کی رفتار سے بولتا چلا جا رہا ہے۔ ڈرامہ دیکھنے والے قہقہے لگا لگا کر تھک گئے مگر اس نوجوان کی جگتیں ختم نہ ہوئیں۔
اس نوجوان کا نام طارق ٹیڈی تھا۔ گذشتہ دنوں یہ طارق ٹیڈی فقط 46 برس کی عمر میں جگر کے عارضے میں مبتلا ہو کر فوت ہو گیا۔
میں جب بھی کسی اداکار کے بارے میں خبر سنتا ہوں کہ وہ بیماری کی وجہ سے 40، 50 سال کی عمر میں فوت ہو گیا تو دل بے حد رنجیدہ ہو جاتا ہے، خاص طور سے اگر وہ تھیٹر کا مزاحیہ اداکار ہو۔
عابد خان، طارق جاوید، ببو برال، مستانہ اور اب طارق ٹیڈی، یہ سب فنکار کسی نہ کسی بیماری کے سبب جلد دنیا سے رخصت ہو گئے اور بیماری بھی کچھ ایسی لا علاج نہیں، کوئی جگر کے عارضے میں مبتلا ہو کر مر گیا تو کسی کو نشے کی لت کھا گئی۔
جس پنجاب میں ہم رہتے ہیں اس کا مزاح میں کوئی جوڑ نہیں، دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا خطہ ہوجہاں اس قدر اعلیٰ پائے کے مزاحیہ اداکار اتنی بڑی تعداد میں پیدا ہوئے ہوں۔ ان اداکاروں کی خاص بات جو انہیں دنیا بھر میں ممتاز کرتی ہے، وہ ان کی فی البدیہہ فقرے کسنے کی صلاحیت ہے جسے ہم ’جگت بازی‘ کہتے ہیں۔
یہ ایسا منفرد ہنر ہے جو صرف مغربی پنجاب کے اداکاروں کی پہچان ہے۔ ایسا نہیں کہ باقی دنیا مزاح میں بانجھ ہے، دنیا میں ایک سے بڑا ایک کامیڈین موجود ہے مگر وہ کامیڈین لکھاریوں کی پوری ٹیم اور ہدایت کار کے اشاروں پر چلتے ہوئے مزاح پیدا کرتا ہے جبکہ اپنے پنجاب میں یہ اداکار فقط اپنی فی البدیہہ جگتوں کے بل بوتے پر گھنٹوں حاضرین کے لیے تفریح کا سامان مہیا کرتے ہیں اور درمیان میں کوئی روکھا لمحہ نہیں آنے دیتے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دکھ کی بات مگر یہ ہے کہ پنجاب کا یہ سٹیج اب سُونا ہو گیا ہے۔ کھیل اب بھی ہوتے ہیں مگر ان میں سوائے لچر پن اور بیہودہ ناچ گانے کے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ زوال ایک دن میں نہیں آیا، اس میں کئی برس لگے اور اداکاروں سمیت سب نے اس میں اپنا حصہ ڈالا۔
ایک اور بات جو تکلیف کا باعث بنتی ہے وہ ان اداکاروں کی زندگی گزارنے کی ناقص منصوبہ بندی ہے۔ یہ لوگ اپنے کیریئر کے جوبن پر اچھے خاصے پیسے کماتے ہیں، مگر اس کے باوجود ان میں سے اکثر کسمپرسی کی حالت میں ہی فوت ہوتے ہیں۔
بے شک ہر شخص اپنے حالات کا خود ذمہ دار ہے مگر یہ کسی قدر بے رحمانہ تبصرہ ہے۔ ہمیں ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ فنکار لوگ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے، ان میں سے اکثر نے کالج کی شکل بھی نہیں دیکھی ہوتی اور کچھ تو شاید پانچویں جماعت پاس بھی نہیں ہوتے۔
ایسے میں جب انہیں شہرت ملتی ہے تو یہ اسے ہینڈل نہیں کر پاتے اور اکثر نشے کے عادی ہوجاتے ہیں۔
اپنے ہاں کوئی ایسا طریقہ کار یا رواج بھی نہیں کہ ان فنکاروں کی ’گرومنگ‘ کی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ نشے سے چھٹکارا پا کر کیسے اپنی زندگی کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مالی معاملات میں بھی ان کی اہلیت صفر ہوتی ہے۔ انہیں بالکل علم نہیں ہوتا کہ زندگی میں مالی منصوبہ بندی کیسے کرتے ہیں یا اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے بیمہ کروانا یا کوئی سرمایہ کاری کرنا کس قدر ضروری ہے تاکہ بچوں کو ان کے بعد کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے۔
سو جب بھی کسی فنکار کے بارے میں خبر آتی ہے کہ وہ بیماری کی حالت میں ہسپتال میں داخل ہے تو فوراً حکومت سے اس کی امداد کی درخواست کی جاتی ہے۔ حکومت کبھی کبھار مدد بھی کر دیتی ہے مگر یہ کوئی مستقل حل نہیں، بہتر یہ ہے کہ فنکاروں کے لیے کوئی فاؤنڈیشن قائم کردی جائے جہاں سے ان کے علاج معالجے کا بندو بست کیا جا سکے۔
اسی طرح فنکاروں کی اجتماعی بیمہ پالیسی بھی لی جا سکتی ہے تاکہ کسی فنکار کی ناگہانی موت کے بعد اس کے بیوی بچوں کو چار پیسے مل جائیں۔ طارق ٹیڈی بستر مرگ پر اپنے فنکار دوستوں کی منتیں کرتے رہے کہ مرنے کے بعد ان کے بیٹے کا خیال رکھیں، یہ ان کی آخری خواہش تھی۔
میں نہیں جانتا کہ ان کے ساتھی فنکار یہ ذمہ داری اٹھا پائیں گے یا نہیں مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ طارق ٹیڈی کا تعلق جس شہر سے تھا وہاں چپے چپے پر کروڑ پتی تاجر رہتے ہیں۔ ان میں سے اگر کوئی چاہے تو طارق ٹیڈی کی آخری خواہش با آسانی پوری کر سکتا ہے۔ طارق ٹیڈی کا اتنا حق تو فیصل آباد پر بنتا ہے!
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔