کراچی: بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ رہا

سندھ حکومت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما سمی دین بلوچ کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر کے تحت حراست میں لینے کے ایک ہفتے بعد رہا کر دیا۔

بی وائی سی کی رہنما سمی بلوچ 25 مارچ، 2025 کو کراچی میں گرفتاری کے موقعے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے (سکرین گریب)

سندھ حکومت نے منگل کو بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی رہنما سمی دین بلوچ کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت حراست میں لینے کے ایک ہفتے بعد رہا کر دیا۔

سمی دین بلوچ کو 24 مارچ کو کراچی میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر ساتھیوں کی کوئٹہ میں گرفتاری کے خلاف احتجاج کے بعد دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
 
25 مارچ کو انہیں اور پانچ دیگر ساتھیوں کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں مجسٹریٹ نے ان کی رہائی کا حکم دیا۔ 
 
تاہم، عدالت کے باہر انہیں ایم پی او کے تحت حراست میں لے کر 30 دن کے لیے سینٹرل جیل کراچی بھیج دیا گیا۔
 
منگل کی شام سندھ محکمہ داخلہ نے ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے سمی دین بلوچ کا نام ایم پی او سے خارج کرتے ہوئے ان کی حراست کا حکم واپس لے لیا۔ 
 
انڈپینڈنٹ اردو کو موصولہ حکم نامے کے مطابق کراچی سینٹرل جیل کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی گئی کہ اگر سمی کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تو انہیں رہا کر دیا جائے، جس کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی۔
عیدالفطر کے پہلے روز پیر کو ایڈوکیٹ جبران ناصر، سمی کی بہن مہلب دین بلوچ، سماجی کارکن شیما کرمانی اور دیگر نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے بی وائی سی رہنماؤں کی آزادی کا مطالبہ کیا تھا۔
 
آج سمی کی رہائی کے بعد ایڈووکیٹ جبران ناصر نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا: ’سندھ حکومت نے سمی دین کا نام ایم پی او سے خارج کر دیا اور اب وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہیں۔ عوام اور میڈیا کے دباؤ کے باعث ان کی رہائی ممکن ہو سکی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’مگر تاحال ان کے ساتھی لعل وہاب، شہزاد، رزاق اور کمسن سلطان کا نام ایم پی او سے نہیں ہٹایا گیا۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام بی وائی سی ممبران کے خلاف ایم پی او کو مکمل طور پر واپس لیا جائے جنہیں پرامن احتجاج کا بنیادی اور جمہوری حق حاصل ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ سمی دین بلوچ کی رہائی ریاست کی جانب سے درست سمت میں پہلا قدم ہے۔ ماہ رنگ بلوچ اور بلوچستان حکومت کی جانب سے حراست میں لیے گئے تمام بی وائی سی کارکنوں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔
 
سمی کی بہن مہلب دین بلوچ نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں سمی کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا: ’میری بہن سمی دین کو آخر کار رہا کر دیا گیا۔ 
 
’میرےپاس شکر گزاری کا اظہار کرنے کے لیے الفاظ نہیں۔ میں ایڈووکیٹ جبران ناصر اور تمام انسانی حقوق کے کارکنوں، سول سوسائٹی کے اراکین اور ہر اس شخص کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں جو ہمارے ساتھ کھڑا رہا، اپنی آواز بلند کی، اور انصاف کے لیے لڑا۔‘
whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان