آسام: مسلمانوں کو کم عمری میں شادی کی اجازت کا قانون ختم

آسام کی ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مسلم میرج اینڈ ڈیوورس رجسٹریشن ایکٹ 1935 کو ختم کر رہی ہے۔ فیصلے کا اطلاق ہفتہ سے ہوگا۔

چار فروری 2024 کی اس تصویر میں آسام میں پولیس کے مبینہ طور پر کم عمری کی شادیوں میں ملوث افراد گرفتار کرنے کے بعد ان کے رشتہ دار احتجاج کرتے ہوئے (اے ایف پی/ بیجو بورو)

انڈیا کی ریاست آسام میں نوآبادیاتی دور کا وہ قانون ختم کر دیا گیا جس کے تحت مسلمانوں کو کم عمری میں شادی کی اجازت تھی۔

ملک میں عام انتخابات سے چند مہینے پہلے قانون کی تنسیخ کو متنازع اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

انڈیا بھر میں یکساں فوجداری قانون رائج ہے تاہم مذہبی برادریوں کے لیے شادی بیاہ، طلاق، بچہ گود لینے اور وراثت کے معاملات سے متعلق مختلف نام نہاد ’پرسنل لاز‘ موجود ہیں جن کی بنیاد اکثر مختلف ثقافتی رسوم پر ہے۔

انڈین وزیر اعظم نریندرمودی کی حکمران جماعت بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) جو آسام میں بھی برسراقتدار ہے، یکساں ضابطہ دیوانی بنانے کے لیے مہم چلا رہی ہے جو مختلف مذاہب کے پرسنل لاز کی جگہ لے گا۔

آسام کی ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مسلم میرج اینڈ ڈیوورس رجسٹریشن ایکٹ 1935 کو ختم کر رہی ہے۔ فیصلے کا اطلاق ہفتے سے ہوگا۔ آسام میں مسلمانوں کی آبادی 34 فیصد ہے۔ وہ ان ریاستوں سے ایک ہے جہاں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔

مسلمان رہنماؤں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ مئی میں ہونے والے انتخابات سے قبل ووٹروں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ریاستی وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کہتے ہیں کہ ’اس قانون میں شادی کے اندراج کی اجازت دینے والی دفعات شامل ہیں خواہ دولہا اور دلہن 18 اور 21 سال کی قانونی عمر کو نہ پہنچے ہوں۔ یہ کارروائی آسام میں کم عمری میں شادیوں پر پابندی کی سمت میں ایک اور اہم قدم ہے۔‘

بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ریاستی اسمبلی کے رکن جے انت ملا بروا نے کہا کہ ’یہ ریاست میں یکساں سول کوڈ کی طرف سفر میں بہت اہم قدم ہے۔‘ انہوں نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ اس قانون کے منسوخ ہونے کے بعد ریاست میں مسلم شادیاں اب سپیشل میرج ایکٹ کے تحت ہوں گی جو پورے انڈیا کا قانون ہے اور عام طور پر اس کے تحت بین المذاہب شادیوں کا اندراج کیا جاتا ہے۔

’اس (منسوخ شدہ قانون) کے تحت ہم کم عمری کی شادیوں کا اندراج بھی دیکھتے تھے۔ 21 سال سے کم عمر لڑکوں یا 18 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی۔ لہٰذا یہ ایک بڑا قدم جس کے تحت ہم کم عمری کی شادی مکمل طور پر ختم کرنے کے قابل ہوں گے۔‘

آسام حکومت ریاست میں ایک سے زیادہ شادیوں پر پابندی لگانے پر بھی غور کر رہی ہے اور اسے ایک مجرمانہ فعل بنا رہی ہے۔ شرما کئی بار اس رواج کے خلاف بات کر چکے ہیں۔ انڈیا میں زیادہ تر مذاہب میں اس پر پابندی ہے لیکن مسلمان مرد پرسنل لا کے تحت قانونی طور پر چار بیویاں رکھ سکتے ہیں۔

اتوار کو خبر رساں ادارے روئٹرز نے ان سے پوچھا کہ کیا شمال مشرقی ریاست عام انتخابات سے قبل یکساں سول کوڈ نافذ کرے گی تو شرما نے کہا کہ ’فوری طور پر نہیں۔‘

آسام میں بہت سے مسلمانوں کی جڑیں بنگالی زبان بولنے والے پڑوسی مسلم اکثریتی ملک بنگلہ دیش سے ملتی ہیں جب کہ ریاست میں بعض اوقات مسلمانوں اور آسامی نسل کے درمیان کشیدگی پیدا ہو جاتا ہے جو زیادہ تر ہندو ہیں۔

حزب اختلاف کے مسلمان رہنماؤں نے کہا کہ نوآبادیاتی دور کے قانون کو منسوخ کرنا امتیازی سلوک ہے۔

آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے سربراہ اور آسام سے تعلق رکھنے والے قانون ساز بدرالدین اجمل نے ہفتے کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’وہ مسلمانوں کو اشتعال دلا کر اپنے ووٹروں کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں، جو مسلمان نہیں ہونے دیں گے۔

’یہ یکساں سول کوڈ لانے کی سمت میں پہلا قدم ہے لیکن اس طرح آسام میں بی جے پی حکومت ختم ہو جائے گی۔‘

اس رپورٹ کی تیاری میں خبر رساں اداروں سے اضافی مدد لی گئی ہے۔

© The Independent

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا