ہنگری کی حکومت نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی رکنیت سے دست برداری اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہنگری کا یہ اعلان ایسے وقت میں آیا جب اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو ہنگری کے دورے پر ہیں، جن کے خلاف آئی سی سی گرفتاری کا وارنٹ جاری کر چکی ہے۔
ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان نے نومبر کو نتن یاہو کو بوداپیسٹ کے دورے کی دعوت دی تھی، اس سے ایک دن قبل آئی سی سی نے نتن یاہو کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
آئی سی سی کے بانی رکن کے طور پر، ہنگری نظریاتی طور پر پابند ہے کہ وہ عالمی عدالت سے وارنٹ کے تابع کسی کو بھی گرفتار کر کے حوالے کرے۔
تاہم اوربان نے واضح کیا کہ ہنگری اس فیصلے کا احترام نہیں کرے گا جسے انہوں نے ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اوربن کے چیف آف سٹاف گرجیلی گلیاس نے نومبر میں کہا تھا کہ اگرچہ ہنگری نے آئی سی سی کے قانون کی توثیق کی ہے، لیکن اسے ’کبھی بھی ہنگری کے قانون کا حصہ نہیں بنایا گیا‘، یعنی ہنگری کے اندر عالمی عدالت کا کوئی اقدام نہیں کیا جا سکتا۔
جمعرات کو گلیاس نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ایم ٹی آئی کو بتایا کہ حکومت آج ہی دستبرداری کا عمل شروع کرے گی۔
نتن یاہو کو گذشتہ برسوں میں ہنگری کے اوربان کی طرف سے بھرپور حمایت حاصل رہی ہے، جو ایک اہم اتحادی ہیں اور ماضی میں یورپی یونین کے بیانات یا اسرائیل کے خلاف تنقیدی اقدامات کو روکنے کے لیے پیش پیش رہے ہیں۔
نومبر 2024 میں آئی سی سی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وارنٹ گرفتاری میں وزیراعظم نتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ پر بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے جنگی جرم کے علاوہ قتل، جبر اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
آئی سی سی کا یہ اقدامنظریاتی طور پر نتن یاہو کی نقل و حرکت کو محدود کرتا ہے کیونکہ عدالت کے 124 ارکان میں سے کوئی بھی اسے اپنی سرزمین پر گرفتار کرنے کا پابند ہو گا۔
روم سٹیٹویٹ کے تمام 124 ممالک کے اراکین نے ایک معاہدے کے تحت آئی سی سی قائم کی تھی اور ان ممالک پر لازم ہے کہ وہ عالمی فوجداری عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد کریں۔
عالمی فوجداری عدالت کے فیصلے کے بعد یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزیف بوریل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ روم سٹیٹویٹ جس میں یورپی یونین کے ممالک بھی شامل ہیں، اس بات کے پابند ہیں کہ وہ آئی سی سی کے فیصلوں پر عمل درآمد کریں۔