افغان طالبان کی ’خودکش حملہ آوروں کے پسماندگان پر اربوں خرچ‘ کرنے کی وضاحت

ذبیح اللہ نے ایک آڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ ان کے الفاظ کا ’پروپیگنڈا کے مقاصد کے لیے لوگوں نے غلط مطلب لیا ہے۔‘

افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد 29 جون، 2024 کو کابل میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں (اے ایف پی)

افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان خبروں کو غلط قرار دیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ ان کی حکومت افغانستان میں حالیہ برسوں میں ’خودکش حملے کرنے والوں کے خاندانوں پر اربوں افغانی خرچ‘ کر رہی ہے۔

اس سے قبل افغان نیشنل ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو کے حوالے سے رپورٹس سامنے آئی تھیں جن میں ذبیح اللہ سے ’فدائی مجاہدین‘ کے یتیموں اور بیواؤں کی مالی امداد کے بارے میں پوچھا گیا تھا جس پر انہوں نے کہا تھا کہ وہ انہیں سالانہ 12 ارب افغانی فراہم کرتے ہیں۔

ذبیح اللہ نے بی بی سی کو دیے ایک آڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ ان کے الفاظ کا ’پروپیگنڈا کے مقاصد کے لیے لوگوں نے غلط مطلب لیا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جس رقم کا ذکر کیا وہ مالی امداد ہے جو ان کی حکومت پورے افغانستان میں بیواؤں، یتیموں اور معذوروں کو فراہم کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کسی نے اس اقتباس کو غلط بیان کیا، یا کوئی غلط فہمی تھی۔‘ حقیقت یہ ہے کہ عام طور پر مرنے والوں اور معذور افراد کی وزارت کے فریم ورک کے تحت ’ہمارے پاس پورے افغانستان سے 653,000 سے زیادہ شہدا کے ورثا، بیواؤں اور معذور افراد کے نام ہیں، جنہیں تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔‘

ان کے مطابق ان میں قدرتی آفات کی وجہ سے یتیم ہونے والوں، بیواؤں یا معذوروں کے نام شامل ہیں۔ امارت اسلامیہ کی صفوں عسکری جدوجہد کے دوران یتیموں، بیواؤں یا معذوروں کے نام تیسری قسم ہے جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’تقریباً نصف افراد ہیں‘ جو سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ یہ ان کے اہل خانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔‘

اس سے قبل، نیشنل ٹیلی ویژن کے سوشل میڈیا پر یکم اپریل کو نشر ہونے والے ایک ویڈیو انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ ’ہم نے ان فدائین مجاہدین کے بچوں اور خاندانوں کے لیے کیا کیا ہے جو اب ہمارے ساتھ نہیں ہیں، جنہوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں؟‘

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا: ’بلاشبہ امارت اسلامیہ نے قربانی دینے والوں کے خاندان پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اب ہم سالانہ 12 ارب افغانی یتیموں اور بیواؤں پر خرچ کرتے ہیں، جو تقریباً دو یا تین وزارتوں کا بجٹ ہے۔ وہ زیادہ عزت کے مستحق ہیں، کیونکہ انہوں نے اسلام کی خاطر اپنے عزیز و اقارب کی جانیں قربان کی ہیں۔ یہ امارت کا بھی فرض ہے کہ وہ ان کی طرف توجہ کرے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جناب مجاہد کا کہنا ہے کہ بجٹ میں جن بارہ یا ساڑھے بارہ ارب افغانیوں کی درخواست کی گئی تھی وہ پچھلے سال ان تمام لوگوں میں تقسیم کر دی گئی تھی۔

اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد وزارت کے حکام نے کہا کہ انہوں نے وزارت کے فریم ورک کے تحت ملک بھر میں یتیموں، بیواؤں اور معذور افراد کی رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

وزارت کے عہدیداروں نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ فہرستوں سے ’فرضی اور غیر مستحق افراد‘ کے نام نکال دیے گئے ہیں۔

اس کے بعد طالبان حکومت نے بھی ان فہرستوں میں ان لوگوں کے نام شامل کرنا شروع کیے جو ان کی صفوں میں لڑائی کے دوران مارے گئے تھے۔

سابق افغان ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے 2021 میں کیے گئے ایک سروے میں افغانستان میں معذور افراد کی تعداد تقریباً ساڑھے پانچ ملین بتائی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ان میں سے زیادہ تر جنگ میں معذور ہوئے۔ ان میں سے اکثر اب معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل